مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 47 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 47

۴۷ مضامین بشیر کی مہر آیا “ کہلاتی ہیں نے تو انتہائی سعی و محنت اور انتہائی مہر و محبت کے ساتھ یہ سارے فرائض انجام دیے ہیں۔فجزاها الله خيراً وكان الله معها فى الدنيا والأخرة۔مگر فطرت کے خلا کو کون بھر سکتا ہے اور ماں کا دل کس سینہ میں ڈالا جا سکتا ہے؟ میں انہی خیالات میں غرق تھا کہ اچانک مجھے ایک غیبی طاقت نے اپنی طرف کھینچ کر اس بات کی طرف متوجہ کیا کہ بیشک اس دنیا میں قضاء وقدر کے قانون کے ماتحت ماں بچہ سے جدا ہوتی ہے اور خاوند بیوی کو چھوڑتا ہے اور بھائی بھائی سے رخصت ہوتا ہے۔اور دنیا میں جدائی کا یہ جال اس طرح پھیلا ہوا ہے کہ اس سے بچ کر نکلنا کسی طرح ممکن نہیں۔مگر کیا خدا کی ذات والا صفات ان سب تغیرات سے بالا نہیں ؟ کیا اسلام ہمیں یہ نہیں سکھاتا کہ جب ماں بچہ کو چھوڑ رہی ہوتی ہے تو اس کا آسمانی باپ جس کی محبت ماں کی محبت سے بھی بہت بڑھ چڑھ کر ہے۔بچہ کی طرف محبت و شفقت کے ساتھ جھک کر کہہ رہا ہوتا ہے کہ میری تقدیر نے تجھے تیری ماں سے جدا کیا ہے۔مگر میں تیرا ودود خدا ہوں۔اب میری محبت تجھ سے اور بھی زیادہ قریب ہے تو میری گود میں آ اور اس سے بڑھ کر محبت کا نظارہ دیکھ جو کبھی تو نے اپنی ماں کی طرف سے دیکھا ہو۔چنانچہ بعینہ یہی حالت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آپ کے والد کی وفات کے وقت پیش آئی کیونکہ جب آپ اپنے والد کی جدائی پر اپنی بے سروسامانی کو دیکھ کر غمگین ہوئے تو جھٹ خدا نے آپ کی طرف محبت کے ساتھ جھک کر فر مایا : - اليس الله بکاف عبده _ ۲۴ ہیں ہیں ! کیا تو میرا بندہ ہو کر باپ کی وفات پر بے سروسامانی کی مایوسی میں مبتلا ہو رہا ہے۔کیا میں اپنے پیارے بندے کی ساری ضرورتوں کے لئے کافی نہیں ؟ پھر حدیث میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی نکتہ کی طرف مسلمانوں کو توجہ دلاتے ہیں کیونکہ جب ایک گھمسان لڑائی کے دوران میں ایک عورت کا بچہ اس سے کھویا گیا۔اور وہ اس کی تلاش میں نالاں وسرگرداں پھرتی تھی۔اور روتی چلاتی ہوئی کبھی ادھر جاتی تھی اور کبھی اُدھر اور بالآخر جب اس کا بچہ مل گیا تو وہ اسے اپنے سینہ سے چمٹا کر یوں بیٹھ گئی کہ گویا اسے سارے جہان کی بادشاہت مل گئی ہے۔تو اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ تم نے اس عورت کی محبت کو دیکھا کہ وہ اپنے بچہ کے لئے کس طرح بے چین تھی اور اسے پا کر کس طرح خوش ہوئی ہے۔والله باللہ خدا کی محبت اپنے بندوں کے ساتھ اس محبت سے بہت بڑھ چڑھ کر ہے جو تم نے اس عورت میں اپنے بچہ کے لئے دیکھی ہے۔ان خیالات کے آتے ہی میں برات کے آنے سے صرف