مضامین بشیر (جلد 2) — Page 432
مضامین بشیر ۴۳۲ بہر حال اسلام کثرت اولاد کو پسند کرتا اور اس کی تلقین فرماتا ہے۔چنانچہ آن حضرت لعلل الاول مشہور حدیث ہے کہ: ۱۲۵ تزوّ جوا الولود الودود فاني مكاثر بكم الامم یعنی اے مسلمانوں تم محبت کرنے والی اور زیادہ اولاد پیدا کرنے والی بیویوں سے شادی کیا کرو تا کہ میں تمہاری کثرت کی وجہ سے خدا کے سامنے دوسری امتوں کے مقابلہ پر فخر کر سکوں۔اب دیکھو کہ ہمارے پیارے امام اور آقا (فداہ نفسی ) نے کس محبت اور کس ہمدردی اور کس شوق کے ساتھ یہ الفاظ فرماتے ہیں اور کون سچا مسلمان ایسا ہو سکتا ہے کہ جو ان الفاظ کے ہوتے ہوئے کثرت اولاد کی خواہش کی طرف سے غافل رہے۔ودود کا لفظ گو اپنی ذات میں بھی ایک بڑی حقیقت کا حامل ہے کیونکہ محبت کرنے والی نیک بیوی ہی گھر کو جنت بنا سکتی ہے لیکن اس کا تعلق اولاد پیدا کرنے کے ساتھ بھی ضرور ہے۔کیونکہ اگر کوئی اور مانع نہ ہو تو کثرت اولاد کے معاملہ میں خاوند بیوی کا کامل روحانی اتحاد بھاری نفسیاتی اثر رکھتا ہے اور یہ ایک لطیف حکیمانہ نکتہ ہے جس کا تجربہ با رہا ہو چکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ شادی کی نسبت زنا کے نتیجہ میں حمل نسبتاً کم قرار پاتا ہے۔بہر حال ہمارے آقا نے ولود کا لفظ استعمال کر کے تاکید فرمائی ہے کہ مسلمانوں کو کثرت اولاد کی طرف خاص توجہ دینی چاہیئے۔بلکہ ایک طرح سے آپ نے گویا اپنی محبت کا واسطہ دے کر غیرت دلائی ہے کہ کیا تم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ قیامت کے دن میرا سر کثرتِ امت کے لحاظ سے بھی دوسروں سے اونچا رہے۔ولود کے لفظ میں اصل بات یہ بتانی مد نظر ہے کہ اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت کے لحاظ سے مختلف عورتیں مختلف درجہ پر ہوتی ہیں۔یعنی اگر کوئی عورت بانجھے نہ بھی ہو تو پھر بھی مختلف عورتوں میں مختلف درجہ کی صلاحیت ہوتی ہے اور اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ حتی الوسع اپنی شادی کے لئے کثرت سے اولاد پیدا کرنے والی بیوی کو چنا چاہیئے۔اگر کوئی شخص یہ سوال کرے کہ یہ کس طرح معلوم ہو کہ کسی عورت میں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت زیادہ ہے تو عام صحت کی حالت دیکھنے کے علاوہ اس کا آسان معیار یہ ہے کہ یہ دیکھ لیا جائے کہ کسی عورت کے خاندان میں دوسری عورتوں کی اولا د کتنی ہے کیونکہ عموماً یہ صلاحیت خاندانی رنگ رکھتی ہے یعنی اگر اور حالات برابر ہوں اور کوئی خاص روگ موجود نہ ہو تو بالعموم ایسے والدین کی بیٹی جو کثرت اولاد کے وصف سے متصف ہوں زیادہ ولو د ہو گی۔بلکہ کسی حد تک لڑکوں اور لڑکیوں کی نسبت کو دیکھ کر یہ فیصلہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ آیا کس خاندان میں لڑکے زیادہ ہوتے ہیں یا کہ لڑکیاں۔بہر حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے کہ مسلمان کثرت نسل کے اصول کی طرف سے