مضامین بشیر (جلد 2) — Page 433
۴۳۳ مضامین بشیر غافل نہ رہیں اور بالعموم ولود بیویاں چن کر امت محمدیہ کو ترقی دیں۔اور یقینا اگر وہ ثواب اور قومی خدمت کے خیال سے ایسا کریں گے تو ان کا یہ عمل دنیوی ترقی کے علاوہ موجب ثواب بھی ہوگا اور جماعت احمدیہ کو تو خصوصیت کے ساتھ اس فریضہ کی طرف زیادہ توجہ دینی چاہیئے۔کیونکہ وہ ایک نئی قائم شدہ جماعت ہے اور ان کی تعداد کی ترقی احمدیت بلکہ اسلام کی ترقی کا موجب ہے۔بہر حال اگر ہماری اس کوشش کے نتیجہ میں قیامت کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سر اس جہت سے بھی بلند ہو جائے تو اس سے بڑھ کر ہمارے لئے کونسی خوشی ہو سکتی ہے۔اب رہا یہ سوال کہ جماعت میں جو لوگ بوڑھے ہو چکے ہیں یا جو بظاہر کسی نقص میں مبتلا ہیں وہ اس نعمت سے کس طرح متمتع ہوں؟ تو ہمارا قرآن اس شمع ہدایت کی طرف سے بھی غافل نہیں رہا کیونکہ قرآن کریم نے دو ایسی نمایاں مثالیں بیان کی ہیں کہ جن میں مایوس کن حالات میں بھی خدا نے اپنے نیک بندوں کو اولا د عطا فرمائی ہے۔چنانچہ حضرت ابراھیم علیہ السلام کے واقعہ کے تعلق میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے : فَبَشَّرْتُهَا بِإِسْحَقَ وَ مِنْ وَرَاءِ إِسْحَقَ يَعْقُوبَ قَالَتْ يُوَيْلَى الِدُ وَانَا ١٢٦ عَجُوزُ وَهُذَا بَعْلِى شَيْئًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٍ عَجِيْبٌ No یعنی جب ہم نے ابراھیم کی بیوی سارہ کو اسحق اور اس کے بعد یعقوب کی بشارت دی تو سارہ نے حیرت کے ساتھ کہا۔ہائے ہائے یہ کیا ہونے لگا ہے۔کیا میں اس حال میں بچہ جنوں گی کہ میں بوڑھی ہو کر بالکل رہ چکی ہوں اور یہ میرا خاوند بھی بڑھاپے کی حد کو پہنچ گیا ہے۔تو اس پر ہمارے رسولوں نے کہا۔بی بی ! کیا تم خدا کے فیصلہ پر تعجب کرتی ہو؟ اے اہل بیت تم پر تو خدا کی رحمت اور برکت کا نزول ہے۔ہاں وہی خدا جو بڑی حمد والا اور بہت بزرگی کا مالک خدا ہے۔اور پھر حضرت ذکریا کے قصہ کے تعلق میں فرماتا ہے: قَالَ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظمُ مِنّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا وَ لَمْ أَكُنْ بِدُعَابِكَ رَبِّ شَقِيَّا وَإِنِّي خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِنْ وَرَاءِى وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا فَهَبْ لِي مِنْ تَدُنكَ وَلِيَّانُ يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيَّان يُزَكَرِيَّا إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِعَلِمٍ اسْمُهُ يَحْيَى لَمْ نَجْعَل لَّهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّان قَالَ رَب عَلى يَكُونُ لِي غُلَمُ وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا وَ قَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا قَالَ كَذلِكَ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَى هَيِّنٌ وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شيئا یعنی ذکریا نے ہم سے دعا کی کہ اے میرے خدا میری ہڈیاں کمزور پڑگئی ہیں اور میرا سر بڑھاپے