مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 391 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 391

۳۹۱ مضامین بشیر قادیان کے سب دوست خیریت سے ہیں مگر انہیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے۔قادیان سے آئے ہوئے خطوط سے پتہ لگتا ہے کہ وہاں خدا کے فضل سے سب دوست جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک الہام کی بناء پر درویش کہلاتے ہیں اور حقیقتاً اس وقت ان کی زندگی بھی درویشانہ ہی ہے خیریت سے ہیں۔قادیان کے دوستوں کا عام پروگرام یہ ہے کہ پنجگانہ نمازوں اور نوافل کے علاوہ قرآن کریم اور حدیث کا درس ہوتا ہے اور بعض اجتماعی دعائیں بھی کی جاتی ہیں۔اس کے علاوہ تمام دوست سوائے معذوروں کے ہفتہ میں دو دن یعنی ہفتہ اور پیر کے دن نفلی روزے رکھتے ہیں۔وقار عمل بھی باقاعدہ منایا جاتا ہے اور صحتوں کو درست رکھنے کے لئے کبھی کبھی ورزشی مقابلے بھی ہوتے رہتے ہیں۔علاوہ ازیں جہاں تک ان دوستوں کے لئے ان کے موجودہ ما حول میں ممکن ہے غیر مسلموں میں تبلیغ کا سلسلہ بھی کچھ نہ کچھ جاری رہتا ہے۔قادیان میں صدرانجمن احمد یہ بھی قائم ہے اور ضروری شعبے اپنے اپنے محدود ماحول میں اپنے فرائض سر انجام دیتے رہتے ہیں۔لنگر خانہ کا انتظام بھی قائم ہے اور کچھ کچھ مہمانوں کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔جو بیشتر صورتوں میں غیر مسلم ہی ہوتے ہیں۔چند دن ہوئے وہاں بٹالہ سے سپرنٹنڈنٹ پولیس دورہ پر گئے اور سب احمدی آبادی کو مدرسہ احمدیہ کے صحن میں جمع کر کے ان کا معائنہ کیا۔یعنی ان کے نام اور پتہ جات وغیرہ نوٹ کر کے یہ معلوم کیا کہ ان میں سے قادیان اور اس کے گردو نواح کے رہنے والے کتنے آدمی ہیں۔اور پاکستان کے رہنے والے کتنے ہیں۔یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس تحقیق سے ان کی غرض کیا تھی۔اس موقع پر انہوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ قادیان میں چونکہ کوئی منظور شدہ کیمپ نہیں ہے اس لئے ہمارے دوستوں کو اردگرد سے نکل کر آئے ہوئے مسلمان مردوں عورتوں کو اپنے پاس نہیں ٹھہرانا چاہئیے۔قادیان میں اس وقت ملٹری کوئی نہیں البتہ پولیس فورس موجود ہے اور ایک ریزیڈنٹ مجسٹریٹ بھی وہاں رہتے ہیں۔دیگر حکام بھی اکثر آتے رہتے ہیں۔گزشتہ ایام میں ماسٹر تارا سنگھ مشہور سکھ لیڈر بھی قادیان گئے اور ریتی چھلہ کے میدان میں