مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 319 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 319

۳۱۹ ، مضامین بشیر تعریف سے صحیح طور پر خارج کیا ہے البتہ بعض اوقات وہ ایک تاریخی واقعہ کے اظہار کے طور پر یہ ضرور ذکر کر دیتے ہیں کہ فلاں شخص نے اسلام قبول کیا تھا مگر پھر مرتد ہوکر اسلام سے کٹ گیا۔یہ اصول حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں بھی چسپاں ہوگا۔البتہ اگر عبداللہ بن ابی سرح کی طرح کوئی شخص ارتداد کی ٹھوکر کھا کر پھر اسلام کی سعادت حاصل کر لے تو ایسے شخص کو صحابہ کے گروہ میں شامل کرنے میں تامل نہیں ہونا چاہئے۔(۴) چوتھا سوال یہ ہے کہ اگر کسی نے رسول کے ہاتھ پر بیعت کی اور اسکی صحبت سے فائدہ اٹھایا لیکن رسول کی وفات کے بعد وہ خلافت کی بیعت سے منحرف ہو گیا۔تو اسکے متعلق کیا سمجھا جانا چاہئیے ؟ اس کے جواب میں زیادہ محتاط الفاظ تو میں صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ عِلْمُهَا عِنْدَ رَنِى فِي كِتَبِ لَا يَضِلُّ رَبِّي وَلَا يَنْسَی لیکن ایک اصولی بات ذکر کر دینا ضروری سمجھتا ہوں اور وہ یہ کہ جب اللہ تعالیٰ دنیا میں کوئی روحانی تغیر پیدا کرنا چاہتا ہے تو اسکی یہ سنت ہے کہ وہ ایک لمبے نظام کی صورت میں اس تغیر کو آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے، اور ایسا نہیں کرتا کہ ایک شخص کو اپنے پیغام سے مشرف کر کے دنیا میں پیدا کرے اور پھر اس کے بعد اس پیغام کی خامیاں بھی کو بال کسی مزید نگرانی اور تنظیم کے کفر والحاد کے تھپیڑے کھانے کے لئے چھوڑ دے۔اگر ایسا ہو تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ سمندر میں ایک پتھر پھینک کر لہر پیدا کی گئی۔اور پھر اس لہر کے مرنے اور ختم ہونے کے لئے یونہی چھوڑ دیا گیا ، یا یہ کہ ایک کسان نے ایک فصل پیدا کرنے کے لئے ایک بیج بویا ، اور پھر بیج بونے کے بعد اس نے اپنے کھیت کو بغیر کسی نگرانی کے چوروں اور ڈاکوؤں اور مویشیوں اور دیگر حادثات کا نشانہ بنادیا۔یہ صورت خدائے حکیم کی ازلی سنت اور عقل و خرد کے تمام اصولوں کے خلاف ہے۔خدا کی سنت یہی ہے کہ جب وہ دنیا میں کوئی روحانی تغیر پیدا کرنا چاہتا ہے تو پھر اس تغیر کے لئے ایک رسول پیدا کرتا ہے اور پھر اس رسول کے ہاتھ پر ایک منظم جماعت جمع کرتا ہے اور پھر اس جماعت کو ایک نقطہ پر متحد رکھنے کے لئے اور جماعت سے رسول کی بعثت کی غرض وغایت کے مطابق کام لینے کے لئے خلفاء کا سلسلہ جاری فرماتا ہے اور یہ سہارا سلسلہ اس خدائی تنظیم کا لازمی حصہ ہوتا ہے جو ہر نئے الہی پیغام کے وقت قائم کیا جاتا ہے۔پس جو شخص رسول کو تو مان لیتا ہے مگر اس کے بعد الہی تنظیم کی باقی کڑیوں سے کٹ جاتا ہے بلکہ ان کی مخالفت کے در پے ہو جاتا ہے وہ ایسا ہی ہے کہ جسے ایک شخص کسی منزل پر پہنچنے کے لئے روانہ ہوا مگر کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد راستہ کو چھوڑ کر علیحدہ ہو گیا ،لیکن میں اس اظہار سے بھی رک نہیں سکتا کہ اس قسم کے لوگ بھی دراصل مختلف نوع کے ہو سکتے ہیں بعض تو ایسے ہیں کہ وہ خلافت کے دامن سے صرف کٹتے ہی نہیں بلکہ اسے مٹا دینے کے لئے بھی ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے