مضامین بشیر (جلد 2) — Page 317
۳۱۷ مضامین بشیر صحابی کی تعریف کے متعلق ایک دوست کے چار سوالات چند دن ہوئے میں نے الفضل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کے متعلق دعا کی تحریک شائع کی تھی اور اپنے اس نوٹ میں ضمناً صحابی کے لفظ کی تین تعریفیں بھی درج کی تھیں۔ایک وہ جس میں وسیع دائرے کو ملحوظ رکھا گیا ہے دوسرے وہ جو تنگ دائرے پر مشتمل ہے اور تیسرے ان دونوں کے بین بین کی تعریف اور میں نے لکھا تھا کہ موجودہ حالات میں ہمارے لئے بین بین کی تعریف زیادہ مناسب ہے۔اپنے اس نوٹ میں، میں نے یہ بھی اشارہ کر دیا تھا کہ ان تین تعریفوں پر ہی مصر نہیں بلکہ ان کے علاوہ صحابی کے لفظ کی اور بھی تعریفیں ہو سکتی ہیں اور عملاً کی گئی ہیں۔میرے اس مضمون پر ایک دوست نے چار سوالات لکھ کر بھیجے ہیں اور مجھ سے خواہش کی ہے کہ میں ان سوالوں کا جواب دوں ، سو میں اپنے علم کے مطابق نہایت اختصار کے ساتھ اس دوست کے سوالوں کے جواب درج ذیل کرتا ہوں۔(۱) پہلا سوال یہ ہے کہ صحابی کی تعریف میں جو یہ الفاظ آتے ہیں کہ رسول کو دیکھا ہو یا آپ کا کلام سنا ہو ان الفاظ میں’یا سے کیا مراد ہے؟ اس کے جواب میں یا درکھنا چاہئے کہ یا کا لفظ اس لئے لکھا گیا ہے تا کہ اس تعریف میں ایسے لوگ بھی شامل ہوسکیں جو مثلاً آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوتے ہیں اور رسول کو دیکھ نہیں سکتے مگر اس کا کلام سنتے اور اسکی محبت سے فائدہ اٹھاتے رہے۔آنحضرت عہ کے زمانہ میں بھی بعض ایسے مسلمان موجود تھے جنہوں نے بوجہ نابینا ہونے کے آنحضرت ﷺ کو دیکھا نہیں مگر آپ کے کلام کو سنا اور آپ کی صحبت سے مستفید ہوئے۔مثلا عبداللہ بن ام مکتوم ایک نابینا صحابی تھے جن کا ذکر کئی جگہ حدیث اور اسلامی تاریخ میں آتا ہے اور خود قرآن شریف نے بھی سورۃ عبس میں ان کی طرف اشارہ کیا ہے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابیوں میں حافظ محمد ابراہیم صاحب یا حافظ احمد جان صاحب پشاوری معروف بزرگ گزرے ہیں۔جنہوں نے اپنی جسمانی کمزوری کی وجہ سے آپ کو دیکھا نہیں مگر آپ کا کلام سنا اور عرصہ دراز تک آپ کی صحبت سے فائدہ اٹھایا۔سو اس وقت کے معنوں کو صحابی کی تعریف میں شامل کرنے کیلئے یا کا لفظ لکھنا ضروری تھا۔دوسری صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ایک شخص نابینا تو نہ ہو مگر کسی مجلس میں یا کسی پبلک جلسہ میں وہ ایسے طریق پر شامل ہوا ہو کہ اس نے رسول کا کلام تو سن لیا ہو مگر کسی اوٹ وغیرہ کی وجہ سے یا