مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 316 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 316

مضامین بشیر قادیان سے عید الفطر کا ایک گرانقدر عطیہ روحانیت کے خاص ماحول میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی روحانی آنکھیں بھی تیز کر دیتا ہے اور وہ چیزوں کی صحیح قدر و قیمت اور اپنے بھائیوں کے جذبات کا صحیح اندازہ کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔اس عیدالفطر پر جو چند دن ہوئے گزری ہے مجھے قادیان کے ایک دوست سید محمد شریف صاحب نے عید کا ایک ایسا تحفہ بھیجا ہے جس نے میرے دل و ماغ کو معطر کر دیا۔سید صاحب موصوف نے ایک تو مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار مبارک کا تازہ ترین فوٹو بھیجا ہے۔جس میں حضور کے مزار مبارک کے کتبے کا ایک ایک لفظ پڑھا جاتا ہے۔مزار کے قریب خود سید صاحب موصوف دعا میں ہاتھ اٹھائے کھڑے ہیں اور ساتھ ہی حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کا مزار بھی صاف نظر آ رہا ہے۔دوسرا تحفہ سید صاحب نے پانچ عدد پھولوں کی صورت میں بھجوایا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مزار کے قریب ترین موتیا کے پودے سے اتار کر بھیجے گئے ہیں۔اتنے دن گزر جانے اور ان کے خشک ہو جانے کے باوجود ابھی تک ان پھولوں میں بھینی بھینی خوشبو موجود ہے۔میں ان دونوں تحفوں پر سید صاحب موصوف کا دلی شکر یہ ادا کرتا ہوں۔فجزاه الله خيراً في الدنيا والآخره مگر جہاں قادیان کے ان تحفوں نے روحانی خوشی اور مسرت کی لہر پیدا کی وہاں ان کی وجہ سے قادیان کی مخصوص یاد بھی تیز تر ہوگئی اور موتیا کے خشک شدہ پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو نے قادیان کے ارض وسما اور قادیان کے لیل و نہار کی زبر دست مگر دبی ہوئی مہک کو اس طرح اٹھایا کہ دل و دماغ میں تہلکہ برپا ہوگیا اور مزار مسیح کے پھولوں کی خوشی اس دعا پر ختم ہوئی کہ خدا یا جس طرح تو قادیان کا یہ چھوٹا سا تازہ تحفہ ہمارے پاس لایا ہے اسی طرح یہ فضل بھی فرما کہ تیری بے حد و حساب قدرت خود قادیان کو ایک مجسم تحفہ بنا کر ہمارے سامنے پیش کر دے۔وما ذالك على الله بعزيز ولاحول ولاقوة الا بالله العظيم ( مطبوعه الفضل ۷اراگست ۱۹۴۸ء)