مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 252 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 252

مضامین بشیر ۲۵۲ میں ان کے سوا کوئی اور ہدایت نہ بھی ہو۔تو یہی دو مختصر الفاظ کسی حاکم کی کامیابی اور اس کی سرخروئی کے لئے کافی وشافی ہیں۔سب سے پہلا سبق’ امانت کے لفظ میں ہے اور ہر شخص جانتا ہے کہ امانت اس چیز کو کہتے ہیں جو ہماری ملکیت نہیں ہوتی ، بلکہ کسی دوسرے شخص کی طرف سے ہمیں عارضی طور پر حفاظت کے لئے ملتی ہے۔پس پہلی ہدایت قرآن شریف کی یہ ہے کہ جب کسی شخص کو حکومت کا کوئی عہدہ سپر د ہو تو وہ اسے ایک مقدس امانت سمجھ کر ادا کرے اور امانت کا مفہوم اپنے اندر دو پہلو رکھتا ہے ایک یہ کہ وہ امانت ہے خدا کی طرف سے جو دنیا کا آخری حکمران ہے اور دوسرے یہ کہ وہ امانت ہے لوگوں کی طرف سے جو ایک شخص کو اپنا نمائندہ بنا کر حکومت کے عہدہ پر فائز کرتے یا کرواتے ہیں۔پس ہر مسلمان حاکم کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ ہر وقت اپنے دل میں اس احساس کو قائم رکھے کہ میرا عہدہ میرے پاس ایک دو ہری امانت کے طور پر ہے یعنی اول وہ خدا کی امانت ہے کیونکہ میں نے بالآخر خدا کے سامنے اپنے سارے کاموں کا جواب دینا ہے۔اور پھر وہ لوگوں کی امانت ہے جن کا میں نمائندہ ہوں۔اور جن کے سامنے میں دنیا میں جواب دہ ہوں میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر ہر عہدہ داراس امانت والے احساس کو اپنے دل میں قائم کرلے اور پھر قائم کرنے کے بعد اسے زندہ رکھے تو ہمارے قومی کا موں میں اتنا بھاری تغییر پیدا ہو سکتا ہے جو موجودہ حالت میں ہم خیال میں بھی نہیں لا سکتے۔دیکھو یہ کتنا چھوٹا سا لفظ ہے جو قرآن شریف نے استعمال کیا ہے مگر حکمت و معرفت سے کتنا لبریز ہے کہ گویا بجلی کا ایک۔بٹن دبانے سے سارا گھر آن واحد میں روشن ہو جاتا ہے کاش لوگ اس نکتہ کو سمجھیں۔دوسری بات اس قرآنی آیت سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ جس شخص کے سپر دحکومت کا کوئی عہدہ ہو اسے اپنے فرائض کی ادائیگی میں کامل عدل سے کام لینا چاہئے۔میں نے عدل کے ساتھ کامل کا لفظ اس لئے زیادہ کیا ہے کہ عربی محاورہ کے مطابق جب العدل کا لفظ بغیر کسی قید یا حد بندی کے آئے تو اسکے معنے کامل اور وسیع عدل کے ہوتے ہیں اور ایسا لفظ عدل کے ان سارے پہلوؤں پر حاوی ہوتا ہے جو لغت اور زبان کے محاورہ کے مطابق امکانی طور پر سمجھے جاسکتے ہیں۔پس جب قرآن شریف یہ فرماتا ہے کہ ہر حاکم کا فرض ہے کہ وہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں عدل سے کام لے تو اس میں ہر قسم کا کامل عدل سمجھا جائے گا۔اب ہر شخص جانتا ہے کہ عدل کئی قسم کا ہو سکتا ہے جن میں سے میں چار موٹی اور معروف قسمیں ذیل میں درج کرتا ہوں۔(اول) اپنے کام کے ساتھ عدل کرنا ، یعنی اپنے فرض منصبی کو اس کے سارے حقوق کے ساتھ ادا کرنا اور مختصر طور پر یہ حقوق تین قسم کے ہیں۔(الف) فن کی واقفیت یعنی جو کام کسی کے سپر د کیا گیا