مضامین بشیر (جلد 2) — Page 226
۲۲۶ مضامین بشیر ملٹری افسر ایک جیسے تھے۔یقیناً ان میں سے بعض نیک دل بھی ہوں گے۔اور میں یہ دعوے بھی ہرگز نہیں کرتا کہ مغربی پنجاب میں کوئی کالی بھیڑ نہیں۔یقیناً بعض بے اصول افسروں نے یہاں بھی غیر جانبدارانہ رویہ اختیار کیا ہو گا مگر ہر میدان میں نسبت کو دیکھا جاتا ہے اور یہ نسبت مشرقی پنجاب میں اتنی زیادہ ہے کہ کسی عقلمند کے نزدیک شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔لیکن میں کہہ چکا ہوں کہ اس جگہ مجھے دلائل دینے مقصود نہیں بلکہ صرف اصول کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے۔مظالم کی نوعیت اور درجہ کا سوال بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ( پنجم ) پانچویں بات یہ دیکھنی ضروری ہوتی ہے کہ اس قسم کے فسادات میں مظالم کی نوعیت اور مظالم کا درجہ کس فریق کو زیادہ زیر الزام لاتا ہے۔ظاہر ہے کہ عموماً فسادات میں ظلم ہر دو فریق کی طرف سے ہو جاتے ہیں۔یعنی خواہ ابتداء کسی کی طرف سے ہوا اور خواہ حق کسی فریق کے ساتھ ہو۔جب کوئی فساد ہوتا ہے تو عموماً ہر فریق کی طرف سے ایسے افعال سرزد ہوتے ہیں جنہیں ظاہری نظر میں ظلم اور تشدد کا نام دیا جا سکتا ہے۔لیکن بہر حال یہ بات دیکھنی ضروری ہوتی ہے اور اس کے بغیر ذمہ داری کی صحیح تعیین نہیں ہو سکتی کہ فریقین کی طرف سے جو مظالم روا ر کھے گئے ہیں اور جن افعال کا ارتکاب کیا گیا ہے، ان میں درجہ اور نوعیت کے لحاظ سے کس فریق کے مظالم زیادہ سخت اور زیادہ بھیا نک اور زیادہ بے رحمی کا رنگ رکھتے ہیں۔مثلاً اگر دو فریق کے درمیان کوئی لڑائی ہو جاتی ہے تو خواہ حق کسی کے ساتھ ہو وہ لازماً ایک دوسرے کے خلاف ہاتھ اٹھائیں گے اور لازماً ان میں سے ہر فریق کے آدمیوں کو کم و بیش چوٹیں بھی آئیں گی یا بعض قتل بھی ہوں گے۔لیکن اگر ان دو فریقوں میں سے ایک فریق زیادہ بختی اور زیادہ بے رحمی کا طریق اختیار کرتا ہے۔مثلاً صرف قتل ہی نہیں کرتا بلکہ وحشیانہ غصہ میں آکر مقتول کے اعضاء کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے۔یا مثلا تلوار چلاتے ہوئے دانستہ چہرہ پر وار کرتا ہے تا کہ دوسرے کی صورت کو مسخ کر دے۔اور اس کی زندگی کو اس کے لئے مصیبت بنا دے۔یا لڑائی میں دوسرے فریق کے جنگجو مردوں سے تجاوز کر کے عورتوں اور بچوں پر بھی وار کرتا ہے۔یا بوڑھے اورضعیف مردوں کو بھی موت کے گھاٹ اتارتا ہے۔یا چھوٹے بچوں کو ماں کے سامنے مار کر یا ماں کو چھوٹے بچوں کے سامنے تہہ تیغ کر کے خوش ہوتا ہے تو وہ اپنی سیاہ باطنی اور درندگی پر خود اپنے ہاتھ سے مہر لگاتا ہے۔اور فسادات میں اس کی ذمہ داری ( خواہ دوسرے حالات کچھ ہوں ) انتہا کو پہنچ جاتی ہے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے اور ایک مشترک ما در وطن کی طرف منسوب ہونے کی وجہ سے ہماری آنکھیں شرم سے زمین میں گڑ جاتی ہیں کہ مشرقی پنجاب میں ایسے واقعات ایک نہیں دس