مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 224 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 224

مضامین بشیر ۲۲۴ ہے کہ ایسا شخص بظاہر جوابی رنگ رکھتے ہوئے بھی ظالم اور سزا کا مستحق۔ہے۔یہ وہ صورت ہے جسے قانون کی اصطلاح میں حفاظت خود اختیاری کے حق سے تجاوز کرنا کہتے ہیں۔یعنی Exceeding the right of private defence بے شک بعض اوقات ایسی ہنگامی صورت پیدا ہو جاتی ہے کہ افراتفری کی حالت میں ایک شخص نیک نیت ہوتے ہوئے بھی خود حفاظتی کے حق سے خفیف سا تجاوز کر جاتا ہے اور اس قسم کے خفیف تجاوز کو حالات پیش آمدہ کے ماتحت قابل معافی سمجھا جاتا ہے۔لیکن جہاں حملہ اور دفاع میں کوئی نسبت ہی نہ ہو اور دفاع سے ناجائز فائدہ اٹھا کر انتہائی ظلم سے کام لیا جائے تو ایسا دفاع بھی یقیناً قابل ملامت اور قابل سز ا سمجھا جائے گا۔چنانچہ گزشتہ فسادات میں کئی جگہ ایسا ہوا کہ بعض مقامات پر سکھوں اور ہندوؤں نے مسلمانوں کو کوئی دھمکی دی اور انہیں تنگ کیا اور پرستی چھیڑا اور اس کے جواب میں مسلمانوں نے دفاع اور خود حفاظتی کے خیال سے کوئی جائز تدبیر اختیار کی تو پھر اس دفاعی تدبیر کو بہانہ بنا کر مسلمانوں پر وہ وہ مظالم ڈھائے گئے کہ الامان والحفیظ۔پس فسادات میں ذمہ داری کی صحیح تعیین کرنے کے لئے اس پہلو کو دیکھنا بھی ضروری ہوگا۔سازش کا رنگ ذمہ داری کو بہت بڑھا دیتا ہے (سوم) تیسری بات یہ دیکھنے والی ہے کہ سازش کا رنگ کس قوم کی کارروائیوں میں پایا جاتا ہے۔دنیا میں اکثر فسادات ہوتے رہتے ہیں۔اور ان فسادات میں قتل و غارت اور لوٹ مار وغیرہ کی واردا تیں بھی ہو جاتی ہیں۔مگر بالعموم ایسے فسادات افراد کے جوش کا ایک وقتی ابال سمجھے جاتے ہیں۔یعنی یہ کہ کسی وجہ سے دو پارٹیوں کے لوگوں میں اختلاف پیدا ہوا اور یہ اختلاف بعض وجوہات سے چمک گیا اور پھر اس کے نتیجہ میں ٹکراؤ کی صورت پیدا ہو گئی۔بے شک ایسے ٹکراؤ بھی قابل افسوس ہیں اور ان میں جو فریق بھی زیادہ ظالم ہے ، وہ زیادہ قابل علامت ہے ، لیکن اگر کسی پارٹی یا قوم کی طرف سے سازش کا رنگ پیدا ہو جائے اور پہلے سے تدبیریں سوچ کر اور سکیمیں بنا کر دوسری پارٹی کو اپنے حملہ کا نشانہ بنایا جائے تو یہ ایک بدترین قسم کی فرقہ وارانہ ذہنیت ہوگی جو فساد کرنے والی قوم کی ذمہ داری کو یقیناً بہت بڑھا دے گی اور یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔( گو یہ تفصیل میں جانے کا موقع نہیں ) کہ مشرقی پنجاب میں ایک پہلے سے سوچی ہوئی سکیم کے ماتحت مسلمانوں کو مظالم کا نشانہ بنایا گیا۔اس میں واقعات اور حالات اتنے واضح اور نمایاں ہیں کہ کسی غیر جانبدار شخص کے لئے شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ایک سکیم بنائی گئی۔اس کے مطابق تیاری کی گئی۔اور پھر اس سکیم اور اس تیاری کے ماتحت ایک منظم صورت میں مسلمانوں کی جانوں اور مالوں اور عزتوں پر حملہ کیا