مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 221 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 221

۲۲۱ مضامین بشیر گذشتہ فسادات کی ذمہ داری کس قوم پر ہے؟ ذمہ داری کی تعیین کے لئے چند بنیادی اصول قریباً پچیس سال کا عرصہ ہوا۔جبکہ میں ابھی نو جوان تھا کہ مجھے ایک مناظرہ کے سننے کا اتفاق ہوا اس مناظرہ میں ہر دو فریق نے خوب زور و شور سے تقریریں کیں اور فریقین کے حامیوں نے بھی خوب دل کھول کر واہ واہ کی لیکن میری طبیعت پر اس مناظرہ کا ایسا خراب اثر ہوا کہ آج تک نہیں بھولتا۔کیونکہ آخر تک ہر دو منا ظر صرف اپنے اپنے حق کی دلیلیں دہراتے تھے۔اور دوسرے فریق کی پیش کردہ دلیلوں کو توڑنے یا مطابقت دینے کی طرف بالکل توجہ نہیں تھی۔حالانکہ کا میاب مناظر وہی ہوتا ہے جس میں یا تو انسان اپنی دلیلوں کو سچا ثابت کرنے کے ساتھ ساتھ فریق مخالف کی دلیلوں کو بھی غلط ثابت کر دے۔یا ان کی کوئی ایسی معقول تشریح پیش کرے جس سے مخالف یا موافق دلیلوں میں تضاد کی صورت دور ہو جائے۔اس وقت سے میں نے اس نکتہ کو سمجھا اور میری طبیعت پر اس کا گہرا اثر ہے کہ محض اپنی تائید میں کوئی دلیل پیش کر دینا ہرگز کافی نہیں ہوا کرتا۔بلکہ صحیح نتیجہ پر پہنچنے کے لئے موافق و مخالف ہر دو قسم کی دلیلوں پر یکجائی کی نظر ڈال کر ان کا موازنہ کرنا اور پھر غلط دلیل کو کاٹ کر صحیح دلیل کو قائم کرنا۔یا دونوں قسم کی دلیلوں میں مطابقت کی صورت پیدا کر کے آخری نتیجہ نکالنا ضروری ہوتا ہے۔مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ دنیا میں اکثر مناظرے یک طرفہ بات کو دہراتے چلے جانے کے سوا کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔اور جب دوسرا فریق بھی اپنی یک طرفہ بات کو دہرانے لگتا ہے تو پھر عوام الناس حیران و ششدر ہو کر پریشان ہونے لگتے ہیں کہ کس بات کو سچا سمجھیں اور کس کو جھوٹا۔کیونکہ دلیلیں دونوں طرف کی موجود ہوتی ہیں مگر کمزور دلیلوں کو کاٹنے یا مضبوط دلیلوں کے مطابق ثابت کرنے کا کوئی سامان موجود نہیں ہوتا۔گزشتہ فسادات میں بظاہر دونوں طرف قتل و غارت ہوا مگر پھر بھی ظالم کو پہچاننا مشکل نہیں۔گزشتہ فسادات کے تعلق میں ذمہ داری کے سوال کے متعلق بھی یہی سطحی رنگ اختیار کیا جارہا ہے یعنی ایک طرف مسلمان یہ شکایت کر رہے ہیں کہ سکھوں اور ہندوؤں نے مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کو قتل کیا۔ان کی عورتوں کو اغوا کیا ان کی جائیدادوں کو تباہ کیا اور ان کے مال واسباب