مضامین بشیر (جلد 2) — Page 218
مضامین بشیر ۲۱۸ 66 کرے۔اور ایسے سب لوگوں کے لئے جہنم وعدہ کا مقام ہے۔“ (۷) اور بالآخر سورۃ ص رکوع نمبر ۵ میں فرماتا ہے : ” جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں مٹی سے ایک بشر بنانے والا ہوں پھر جب میں اسے ٹھیک ٹھاک کرلوں اور اس کے اندر اپنی روح پھونکوں تو تم اس کے سامنے فرمانبردار ہو کے جھک جاؤ۔تو اس پر سب کے سب فرشتوں نے فرمانبرداری اختیار کی۔مگر ابلیس نے نہ کی۔اس نے اپنے آپ کو بڑا جانا اور کافروں میں سے ہو گیا۔خدا نے کہا اے ابلیس تجھے کس چیز نے روکا کہ تو اس وجود کا فرمانبردار بنے جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے پیدا کیا ( اللہ اللہ اپنے دونوں ہاتھوں کے پیارے الفاظ میں انسان کے لئے کتنی عزت افزائی اور خدا کے لئے کیا شان دلربائی ہے!) کیا تو نے تکبر سے کام لیا یا کہ تو زیادہ عالی مرتبہ ہستیوں میں سے ہے؟ اس نے کہا میں آدم سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے۔خدا نے فرمایا دور ہو جا یہاں سے کہ تو دھتکارا ہوا ہے۔اور تجھ پر جزا سزا کے دن تک میری لعنت ہے۔ابلیس نے کہا اے میرے رب مجھ يوم بعث تک مہلت عطا کیجئے۔خدا نے کہا تجھے وقت معلوم تک مہلت دی گئی۔ابلیس نے کہا مجھے تیری عزت کی قسم ہے۔کہ میں بھی اب ان سب کو گمراہ کرنے کی کوشش کروں گا۔سوائے تیرے مخلص بندوں کے۔خدا نے کہا کہ تو پھر میری بھی یہ کچی کچی بات سن لے کہ اس صورت میں تجھے اور تیرے پیچھے چلنے والوں کو جہنم کی آگ میں بھروں گا۔“ میں اپنے ناظرین سے پوچھتا ہوں کہ کیا اوپر کی آیتوں میں سے کوئی ایک آیت یا ایک فقرہ یا ایک لفظ بھی ایسا ہے جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہو کہ ابلیس کو خدا نے ابتداء سے ہی اس غرض و غایت کے ماتحت پیدا کیا تھا کہ وہ بنی نوع آدم کو گمراہ کرتا پھرے۔بلکہ ان آیات سے تو یہاں تک پتہ لگتا ہے کہ ابلیس کی پیدائش آدم سے پہلے ہوئی تھی۔مگر مغوی وہ آدم کے وقت آ کر بنا۔بہر حال جو باتیں اوپر کی آیات سے ثابت ہوتی ہیں وہ یہ ہیں :- 66 (۱) یہ کہ ابلیس جنوں میں سے ایک مخفی قسم کی مخلوق تھا جو آدم سے پہلے آتشی مادہ سے پیدا کیا گیا اور اس کے بعد آدم کو طینی مادہ سے پیدا کیا گیا۔(۲) یہ کہ خدا نے جن وانس سب کو اپنی عبادت کی غرض سے پیدا کیا ہے۔