مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 215 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 215

۲۱۵ مضامین بشیر حصہ ہے کیونکہ گو خدا نے انسان کو صاحب اختیار بنایا ہے مگر اس کی خواہش یہی ہے کہ سب لوگ نیک بنیں اور نجات پائیں۔خلاصہ کلام یہ کہ اصل بنیادی چیز جو نظام رُوحانی کا ازلی حصہ ہے وہ انسان کا صاحب اختیار ہونا ہے۔اس کی نیکی کی طرف جھکنے کی طاقت لمہ خیر کہلاتی ہے۔اور بدی کی طرف جھکنے کی طاقت لمہ شر۔جب انسان نیکی کی طرف جھکتا ہے تو وہ گویا ایک روشنی کی طرف بڑھتا ہے اور جب وہ اس روشنی سے دور ہوتا ہے تو یہی اس کا بدی کی طرف جھکنا قرار پاتا ہے۔اور خدا تعالیٰ نے ان دواند رونی کلموں کو تقویت پہنچانے کے لئے ایک طرف تو اپنی مشیت کے مطابق فرشتوں اور رسولوں اور آسمانی کتابوں کا سلسلہ جاری کر دیا۔اور دوسری طرف ابلیس کا وجود حضرت آدم کی پیدائش کے ساتھ ہی اپنی مغویانہ صورت میں ظاہر ہو گیا۔پس اس لحاظ سے کہ ابلیس گویا شروع سے ہی نسل انسانی کے ساتھ لگا ہوا ہے وہ ایک طرح نظام روحانی کا حصہ سمجھا جا سکتا ہے۔مگر بہر حال یہ درست نہیں کہ اُسے خدا تعالیٰ نے گمراہ کرنے کی غرض وغایت سے پیدا کیا ہے۔بلکہ وہ اپنی مغویا نہ حیثیت میں ایک محض حادثہ ہے جو انسان کے اندرونی لمہ شر کے ساتھ لاحق ہو گیا ہے۔اصل بحث پھر قرآن شریف پر آجاتی ہے۔میں نے اس بارہ میں قرآن شریف کی متعلقہ آیات کو کافی غور کی نظر سے دیکھا ہے مجھے قرآنی بیان میں کوئی ایسی آیت نظر نہیں آئی جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہو کہ خدا تعالیٰ نے ابلیس کو اس غرض و غایت کے ماتحت پیدا کیا تھا کہ وہ انسان کو گمراہ کرے۔قرآن شریف میں نو جگہ ابلیس کا ذکر آتا ہے ان میں سے سات آیتیں سوال زیر غور کے ساتھ براہ راست تعلق رکھتی ہیں۔اور میں ان ساتوں آیتوں کا ترجمہ ذیل میں درج کئے دیتا ہوں تا کہ ناظرین خود اندازہ کر سکیں کہ جو نتیجہ میں نے نکالا ہے وہ صحیح ہے یا غلط۔(1) سورۃ بقرة رکوع نمبر ہ میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔جب ہم نے فرشتوں سے یہ کہا کہ تم آدم کے سامنے سجدہ کرو یعنی اس کے لئے فرمانبردار ہو جاؤ تو سب نے فرمانبرداری اختیار کی مگر ابلیس نے نہ کی۔اس نے انکار کیا اور اپنے آپ کو بڑا جانا اور کافروں میں سے ہو گیا۔“ (۲) سورۃ اعراف رکوع نمبر ۲ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- ہم نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں شکل وصورت عطا کی۔پھر ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کے لئے فرمانبردار ہو جاؤ۔تو اس پر سب نے فرمانبرداری اختیار کی۔مگر ابلیس فرمانبرداروں میں سے نہ بنا۔خدا نے اسے کہا تجھے کس بات نے فرمانبردار