مضامین بشیر (جلد 2) — Page 209
۲۰۹ مضامین بشیر ایک مغوی وجود ہے جو اپنے دامن غوایت میں ہزاروں اظلال چھپائے ہوئے ہے۔چوتھے مجھے اس بات میں بھی کلام نہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کے وقت سے لے کر اس وقت تک ابلیس اور اس کے اظلال مغویا نہ وجود کی حیثیت رکھتے آئے ہیں۔اور جب تک خدا کو منظور ہو گا اپنی اسی مغویا نہ حیثیت میں کام کرتے چلے جائیں گے۔یہ ساری باتیں بالکل درست اور حق ہیں۔اور مجھے ان میں نہ کبھی کلام ہوا اور نہ ہو سکتا ہے۔جس بات میں مجھے کلام ہے اور اس کے متعلق میں نے علماء کو دعوت دی ہے ، وہ محض یہ ہے کہ آیا خدا تعالیٰ نے ابلیس کو ابتدا سے ہی اسی غرض و غایت کے ماتحت پیدا کیا تھا کہ وہ انسانوں کو گمراہ کرتا پھرے یا کہ وہ خود نا فرمان اور گمراہ ہو کر مغوی بن گیا ہے۔میرا نظریہ جو میرے خیال میں قرآن شریف سے ثابت ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا حوالہ بھی میری موجودہ تحقیق میں اس کے خلاف نہیں ، یہ ہے کہ نظام روحانی کا ازلی حصہ صرف اس قدر ہے کہ خدا نے تقدیر خیر و شر کا قانون جاری کر کے انسان کو صاحب اختیار بنا دیا کہ چاہے تو خدا کا فرمانبردار بن کر نیکی اختیار کر لے اور چاہے تو نافرمان بن کر بدی کے راستہ پر پڑ جائے۔باقی رہا ابلیس کا مغویا نہ وجو دسو وہ ایک بعد کا حادثہ ہے۔مگر بایں ہمہ وہ ایک بالکل ابتدائی زمانہ کا حادثہ ہے جو آدم علیہ السلام کی پیدائش کے ساتھ ہی وقوع میں آ گیا تھا۔اور اس حادثہ کے وقوع میں آنے کے نتیجہ میں بدی کا ایک خارجی محرک بھی پیدا ہو گیا۔پس گو ابلیس کا مغویا نہ وجود قریباً ابتداء سے ہی چلا آتا ہے۔مگر حقیقتاً وہ ایک بعد کا حادثہ ہے۔اور اس لئے اس کا مغوی ہونا نظام روحانی کا حصہ نہیں۔بلکہ نظام روحانی کا حصہ صرف خیر و شر کی تقدیر اور انسان کا صاحب اختیار ہونا ہے۔اور اگر غور کیا جائے تو انسان کا صاحب اختیار ہونا ہی اس کے ترقی کرنے اور انعام کے مستحق بننے کے لئے کافی ہے۔اور اس غرض کے لئے کسی خارجی مغوی وجود کی ضرورت نہیں۔حق یہ ہے کہ نیکی اور بدی کے فلسفہ پر غور نہیں کیا گیا۔قرآن شریف نے نیکی کو نور سے تشبیہہ دی ہے اور بدی کو ظلمت سے۔جیسا کہ فرمایا کہ: جَعَلَ الظُّلُمَتِ وَالتَّوْرَ 12 د یعنی خدا نے ہی نور اور ظلمت دونوں کو بنایا ہے۔“ اب ہر شخص جانتا ہے کہ ظلمت اپنی ذات میں کوئی چیز نہیں بلکہ نور کے فقدان یعنی نور کے موجود نہ ہونے کا نام ظلمت ہے۔گویا اصل چیز دنیا میں نیکی ہے۔اور بدی صرف اس نیکی سے دوری کا نام ہے۔آپ کسی کمرہ میں ظلمت اور تاریکی کو داخل نہیں کر سکتے۔کیونکہ ظلمت اپنی ذات میں کوئی چیز نہیں ہے۔ہاں آپ روشنی کو باہر نکال کر کمرہ کے اندر تاریکی پیدا کر سکتے ہیں اور جتنا جتنا کسی روشنی کا فاصلہ