مضامین بشیر (جلد 2) — Page 101
1+1 مضامین بشیر نز دیک تقدس حاصل ہو تو اس صورت میں کس قوم کو کس اصول پر ترجیح دی جائے گی۔مقدس مقامات کے تعلق میں اس بات کو بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ ایسے مقامات کی حفاظت صرف اس طریق سے ہی ممکن نہیں ہے کہ انہیں اس قوم کی حکومت کا حصہ بنا دیا جائے جو انہیں مقدس خیال کرتی ہے۔بلکہ دوسری حکومت کے اندر رہتے ہوئے بھی ایسے مقامات کی تولیت اور نگرانی کے لئے متعلقہ قوم کی ایک کمیٹی مقرر ہو سکتی ہے آخر انگریزوں کے زمانہ میں بھی ہندوستان میں ہندوؤں ، سکھوں اور مسلمانوں کے مقدس مقامات کی حفاظت کا انتظام موجود تھا۔اسی قسم کا بلکہ اس سے بہتر انتظام اب بھی ہو سکتا ہے۔بہر حال دوسرے حالات کے الفاظ کی تشریح اور تیاری کا کام بھی ایک نہایت اہم اور نازک کام ہے۔جس کے لئے مسلمانوں کو ابھی سے تیاری کرنی چاہئے۔خلاصہ کلام یہ کہ اس وقت تین قسم کے کاموں کے لئے فوری اور مکمل تیاری کی ضرورت ہے :۔(۱) بارہ مشرقی ضلعوں کے سکھوں اور اچھوت اقوام کے ممبروں کو ہمدردی اور دلیل کے ساتھ سمجھایا جائے کہ پنجاب کی تقسیم ان کے لئے ہر جہت سے نقصان دہ اور ضرر رساں ہے۔اور ان کا فائدہ " اسی میں ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ ایک باعزت سمجھوتہ کر لیں اور ان کے ساتھ مل کر رہیں۔(۲) باؤنڈری کمیشن کے لئے پوری پوری تیاری کی جائے۔جس کے لئے مردم شماری کے تفصیلی اعداد و شمار تیار کرنے کے علاوہ بجلی کے پاورسٹیشنوں اور نہروں کے ہیڈوں اور دریاؤں اور رستوں اور ریلوے لائنوں وغیرہ کی تقسیم یا انتظام کے اصول کا بھی گہرا مطالعہ کرنا ہو گا۔اور یہ مطالعہ ایسا ہونا چاہئے کہ جس طرح عدالت میں ایک ہوشیار وکیل بحث کے لئے یا ایک ہوشیار گواہ فریق مخالف کی جرح کے لئے تیار ہو کر جاتا ہے۔بعض صورتوں میں تشریح و توضیح کی غرض سے انٹر نیشنل لاء یعنی بین الاقوامی قانون کا مطالعہ کرنا بھی ضروری ہوگا جو مرکزی شہروں کے وکیل لوگ بہتر کر سکتے ہیں اسی طرح یورپ وغیرہ کے بعض مشہور باونڈری کمیشنوں کی رپورٹوں کا مطالعہ بھی بہت مفید ہوسکتا ہے (۳) حکومت برطانیہ کے اعلان نے جو دوسرے حالات کے غور کا دروازہ کھول دیا ہے، اسے یا تو بند کرانے کی کوشش کی جائے اور یا اوپر کی تشریح کے مطابق اس کے متعلق بھی پوری پوری تیاری کی جائے۔مؤخر الذکر صورت میں بجلی کے پاورسٹیشنوں اور نہروں کے ہیڈ وغیرہ کے سوال کو بھی اسی ضمن میں شامل کیا جا سکتا ہے گو ویسے وہ آبادی کے اصول کے ماتحت بھی آجاتا ہے۔بالآخر میں یہ بات بھی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہم مسلمان خدا کے فضل سے ایک روحانی جماعت ہیں اور ہم اس بات کو کبھی فراموش نہیں کر سکتے کہ جہاں خدا نے کامیابی کے لئے دنیا میں مادی اور ظاہری اسباب پیدا کئے ہیں، وہاں اس نے بعض روحانی اسباب بھی پیدا کئے ہیں ، جو گو ظاہر میں نظر