مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 94 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 94

مضامین بشیر ۹۴ پنجاب کی تقسیم قریباً نا گزیر ہے مگر ہمارا فرض ہے کہ آخری وقت تک جد و جہد جاری رکھیں باؤنڈری کمیشن کے لئے وسیع تیاری کی ضرورت اس وقت ہیٹ سٹروک کی وجہ سے میری طبیعت علیل ہے مگر وقت ایسا نازک ہے اور ایسا تنگ کہ توقف کی گنجائش نہیں۔اس لئے عبارت آرائی اور تفصیل میں جانے کے بغیر چند ضروری امور سپر وقلم کرتا ہوں۔وما توفيقى الا بالله العظيم حکومت برطانیہ کے جدید اعلان مجریه ۳ جون ۱۹۴۷ء کے ذریعہ قارئین کو پتہ لگ چکا ہو گا کہ مسلم لیگ کے اس بنیادی مطالبہ کو تسلیم کر لیا گیا ہے کہ ہندوستان کے ان علاقوں میں جن میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔مسلمانوں کو دوسرے علاقوں سے علیحدہ ہو کر اپنی مستقل حکومت قائم کرنے کا حق ہے مگر اس کے ساتھ ہی اس قسم کے دلائل کی بناء پر پنجاب اور بنگال کی تقسیم کے متعلق غیر مسلموں کا مطالبہ بھی اصولاً تسلیم کر لیا گیا ہے۔البتہ اس بارے میں آخری فیصلہ خود پنجاب اور بنگال کی اسمبلیوں کے ممبروں پر چھوڑا گیا ہے۔جو ۱۹۴۱ ء کی مردم شماری کے مطابق مسلم اور غیر مسلم اکثریت والے ضلعوں کے نمائندوں کی صورت میں دو علیحدہ علیحدہ گروپوں میں بیٹھ کر کثرت رائے سے فیصلہ کریں گے کہ آیا وہ ہندوستان کی دستور ساز اسمبلی میں شامل رہنا چاہتے ہیں۔یا کہ مجوزہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی میں شریک ہونا چاہتے ہیں۔اور اگر ان دوگروپوں میں سے ایک گروپ نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔اور دوسرے گروپ نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ ہندوستان کی دستور ساز اسمبلی میں شریک رہنا چاہتے ہیں۔تو پھر حکومت برطانیہ اس فیصلہ کو تسلیم کر کے ان صوبوں کو تقسیم کر دے گی۔اس اصول کے مطابق پنجاب کے سترہ ضلع ( بشمول ضلع گورداسپور ) مسلم اکثریت والے ضلعے قرار دیئے گئے ہیں۔اور باقی ۱۲ ضلعے ( بشمول ضلع امرتسر ) غیر مسلم اکثریت والے ضلعے قرار پائے ہیں۔سترہ ضلعوں کا فیصلہ تو ظاہر ہے کہ پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کے حق میں ہو گا مگر بارہ ضلعوں