مضامین بشیر (جلد 2) — Page 93
۹۳ مضامین بشیر جماعت احمدیہ کی طرف سے وزیر اعظم برطانیہ کے نام ضروری تار پنجاب کی تقسیم خلاف عقل اور خلاف انصاف ہے چیف سیکرٹری ( ناظر اعلی ) جماعت احمدیہ قادیان کی طرف سے مسٹرائیلی وزیراعظم برطانیہ اور مسٹر چرچل لیڈ ر حزب مخالف کے نام مندرجہ ذیل تار بھجوائی گئی ہے۔جس کی نقل مسٹر محمدعلی جناح صدر آل انڈیا مسلم لیگ دہلی اور نیٹ پر لیس اور ایسوسی ایٹڈ پریس لاہور کو بھی ارسال کی جارہی ہے۔تار کے الفاظ یہ ہیں:۔احمد یہ جماعت پنجاب کی تقسیم کے سخت خلاف ہے کیونکہ وہ جغرافیائی اور اقتصادی لحاظ سے ایک قدرتی یونٹ ہے اور اسے ہندوستان کی تقسیم پر قیاس کرنا اور اس کا طبعی نتیجہ قرار دینا بالکل خلاف انصاف اور خلاف عقل ہے۔اگر صو بوں یعنی قدرتی یونٹوں کو اس لئے تقسیم کیا جا رہا ہے کہ اقلیتوں کے لئے حفاظت کا سامان مہیا کیا جائے تو اس صورت میں یوپی کے ۸۴ لاکھ اور بہار کے ۴۷ لاکھ اور مدراس کے ۳۹ لاکھ مسلمان زیادہ حفاظت کے مستحق ہیں۔یہ دلیل کہ ان صوبوں کی مسلمان آبادیاں کسی حصہ میں بھی اکثریت نہیں رکھتیں۔ایک بالکل غیر متعلق اور غیر موثر دلیل ہے۔کیونکہ اگر تقسیم کو قدرتی یونٹوں کے اصول کی بجائے اقلیتوں کی حفاظت کے اصول پر مبنی قرار دینا ہے تو پھر اس وقت ان مسلمان آبادیوں کا منتشر صورت میں پایا جانا ہرگز انصاف کے رستہ میں روک نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس وجہ سے ان کا حفاظت کا حق اور بھی زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے۔سکھوں کو بھی جیسا کہ ان کا اہل الرائے اور سنجیدہ طبقہ خیال کرتا ہے ، پنجاب کی تقسیم سے قطعاً کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔بلکہ وہ اپنی آبادی کو دو حصوں میں بانٹ کر اور دونوں حصوں میں اقلیت رہتے ہوئے اپنی طاقت کو اور بھی کمزور کر لیتے ہیں۔یہ ادعا کہ پنجاب کی تقسیم آبادی کی بجائے جائیداد کی بناء پر ہونی چاہئے۔نہ صرف جمہوریت کے تمام مسلمہ اصولوں کے خلاف ہے۔بلکہ اس سے مادی اموال کو انسانی جانوں پر فوقیت بھی حاصل ہوتی ہے، جو ایک بالکل ظالمانہ نظریہ ہے۔66 ( مطبوعه الفضل ۲۴ رمئی ۱۹۴۷ء )