مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 1015 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 1015

۱۰۱۵ مضامین بشیر سیلاب کی تباہ کاریاں سیالکوٹ سے دو دردناک واقعات کی اطلاع مشرقی اور مغربی پنجاب میں سیلاب کی وجہ سے جو تبا ہی آئی ہے وہ اس ملک کی تاریخ میں بالکل بے مثال ہے۔انسانی جانوں کے ضائع ہونے کے علاوہ جن کی تعداد بھی کم نہیں ہے۔مویشیوں کا نقصان تو بہت زیادہ ہوا ہے جس کی وجہ سے ملک کی اقتصادی حالت پر کافی اثر پڑنے کا احتمال ہے۔اس سے بڑھ کر فصلوں اور غلہ کے ذخیروں کا نقصان ہے۔چنانچہ یہ اندازہ کیا گیا ہے کہ صرف سیالکوٹ کے ضلع میں قریباً اسی ہزار من غلہ ضائع ہوا ہے اور چاول کی کھڑی فصل کا نقصان بھی بہت زیادہ ہے۔اسی پر دوسرے اضلاع کا قیاس کیا جا سکتا ہے۔آئندہ فصل ربیع پر بھی اثر پڑنے کا امکان ہے لیکن غالبا اس تباہی کا سب سے زیادہ مہیب اور خطر ناک پہلو مکانوں اور دیگر عمارتوں اور سڑکوں اور ریلوے لائینوں وغیرہ کا نقصان ہے جس کا حقیقی اندازہ ابھی تک ہو ہی نہیں سکا۔کہا جاتا ہے کہ بے شمار دیہات اس سیلاب کے نتیجہ میں صفحہ ہستی سے بالکل نا پید ہو گئے ہیں اور شاید بعض ایسے بھی ہیں جن کا دوبارہ آباد کر نا مشکل ہوگا۔الغرض یہ تباہی پنجاب کی تاریخ میں بالکل بے مثال ہے اور گویا حضرت نوح کا زمانہ آنکھوں کے سامنے آ گیا ہے۔مغربی پنجاب کے سولہ اضلاع میں سے دس ضلعے اس تباہی کی زد میں آئے ہیں اور بعض ضلعوں کی اقتصادی زندگی کو تو ایسا سخت دھکا لگا ہے کہ انہیں پھر اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے میں کافی وقت اور بے شمار روپیہ درکار ہوگا۔اس لئے ضروری ہے کہ ذی ثروت لوگ جنہیں خدا نے تو فیق عطا کی ہے وہ اس مصیبت کے وقت میں آگے آئیں اور تباہ شدہ لوگوں کی بحالی کے لئے دل کھول کر امداد دیں کیونکہ ایسے غیر معمولی حالات میں صرف حکومت کے ذرائع پر بھروسہ کرنا کافی نہیں ہوتا : ۱۴۸ ومن كان في عون اخيه كان الله في عونه - اس تباہی کے بعض درد ناک پہلو ایسے ہیں کہ انہیں سن کر کسی شخص کا دل پیجے بغیر نہیں رہ سکتا۔چنانچہ ابھی کل کی ڈاک میں مجھے سیالکوٹ سے چودھری نثاراحمد صاحب کا خط آیا ہے جو لکھتے ہیں۔گزشتہ ایام کے طوفانِ نوح کی وجہ سے سیالکوٹ میں جو تبا ہی نازل ہوئی اس