مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 991 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 991

۹۹۱ مضامین بشیر دیکھ کر کہ قافلہ جا چکا ہے، بہت گھبرائی مگر میں نے ارادہ کیا کہ اب بہر حال یہاں سے ہلنا مناسب نہیں کیونکہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میرے پیچھے رہنے کا علم ہو گا تو آپ لازماً اس جگہ واپس تشریف لائیں گے۔چنانچہ میں اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ گئی۔اور چونکہ رات کا وقت تھا مجھے نیند آ گئی اس کے بعد صبح کے قریب ایک صحابی صفوان بن معطل وہاں پہنچا۔یہ وہ شخص تھا جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قافلہ کے پیچھے پیچھے رہنے کا حکم دیا تھا تا کہ گری پڑی چیزوں وغیرہ کا خیال رکھے۔جب صفوان نے مجھے اس جگہ اکیلے سوئے ہوئے دیکھا تو اس نے مجھے فوراً پہچان لیا۔کیونکہ وہ پردہ کے احکام سے قبل مجھے دیکھ چکا تھا اور اس نے گھبرا کر انا لله وانا اليه راجعون پڑھا۔اس کی آواز سے میں جاگ اٹھی اور میں نے اسے دیکھتے ہی جھٹ اپنا مونہہ اپنی چادر سے ڈھانک لیا اور پھر اس نے مجھے اپنے اونٹ پر بٹھا کر اور خود ساتھ ساتھ پیدل چل کر قافلہ تک پہنچا دیا۔چنانچہ بخاری میں حضرت عائشہ کے الفاظ یہ ہیں : كان صفوان بن معطل من وراء الجيش فاصبح عند منزلی فرائی سود انسان نائم فعرفنى حين رأني وكان رآني قبل الحجاب فاستيقظت باستر جاعه حین عرفنی فخمرت و جهی بجلبابی ۱۲۹ یعنی صفوان بن معطل لشکر کے پیچھے پیچھے آ رہا تھا۔وہ صبح کے قریب میری جگہ پر پہنچا اور اس نے وہاں دور سے ایک انسان کو سوئے ہوئے دیکھا۔جب وہ آگے آیا تو اس نے مجھے دیکھ کر پہچان لیا کیونکہ وہ مجھے پردہ کے احکام سے پہلے دیکھ چکا تھا اور میں اس کے انا للہ وانا الیہ راجعون کے الفاظ سے جاگ اٹھی اور میں نے اسے دیکھتے ہی اپنا چہرہ اپنی چادر سے ڈھانک لیا۔“ یہ حدیث صحیح بخاری کی حدیث ہے جو کتاب اللہ کے بعد اسلام میں صحیح ترین کتاب مانی گئی ہے۔اور اس کی راوی خود حضرت عائشہ ہیں جو آنحضرت صلعم کی محبوب ترین بیوی تھیں اور دینی مسائل میں انہیں وہ عظیم الشان مرتبہ حاصل تھا کہ حدیث میں آتا ہے کہ: رض عن ابى موسى ما اشتكل علينا اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم حديث۔۔۔فسائلنا عائشة الا وجدنا عندها علماً " د یعنی حضرت ابو موسی اشعری روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلعم کے صحابہ پر کبھی کسی مسئلہ میں کوئی علمی مشکل ایسی پیش نہیں آئی کہ ہمیں اس کے متعلق حضرت عائشہ کے پاس صحیح حل نہ مل گیا ہو“