مضامین بشیر (جلد 2) — Page 992
مضامین بشیر ۹۹۲ اور پھر پردہ کا مسئلہ تو خصوصیت سے ایسا ہے کہ اس میں حضرت عائشہ سے بڑھ کر کسی اور صحابی یا صحابہ کا علم نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ حضرت عائشہ نے یہ مسئلہ براہ راست آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نگرانی میں سیکھا تھا اور آپ کی زندگی میں ہی اس پر عمل کر کے اس کی ساری تفصیلات پر عبور حاصل کر لیا تھا۔پس جب حدیث صحیح بخاری کی ہو جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے اور روایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ہو جو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد اس مسئلہ میں یقیناً سب مسلمانوں سے بڑھ کر علم رکھنے والی تھیں تو اس روایت کا درجہ ظاہر وعیاں ہے جس پر کسی تشریحی نوٹ کی ضرورت نہیں۔اب ہم اس حدیث کے فقہی پہلو پر نظر ڈالتے ہیں تو دوباتیں ایسی یقینی اور قطعی معلوم ہوتی ہیں کہ ان میں کسی عقلمند انسان کے لئے کسی شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی ย پہلی بات حضرت عائشہ کے ان الفاظ سے ثابت ہوتی ہے کہ: فعرفنی حین رآنی و کان رآني قبل الحجاب د یعنی صفوان نے مجھے دیکھ کر پہچان لیا کیونکہ وہ پردے کے احکام سے پہلے مجھے دیکھ چکا تھا۔“ ان الفاظ سے روز روشن کی طرح ثابت ہوتا ہے کہ خواہ اسلامی پردہ کے احکام کی تفصیل کچھ مجھی جائے۔بہر حال یہ پردہ عدم شناخت کا موجب تھا اور اسی پردہ کے ہوتے ہوئے ایک غیر محرم مرد کے لئے کسی غیر عورت کی شناخت ممکن نہیں تھی ورنہ حضرت عائشہؓ کبھی یہ الفاظ نہ فرما تھیں کہ ” صفوان نے مجھے دیکھ کر پہچان لیا کیونکہ وہ پردہ کے احکام سے پہلے مجھے دیکھ چکا تھا۔“ یہ الفاظ اس بات کا قطعی اور یقینی ثبوت ہیں کہ اسلامی پردہ کی حدود میں رہتے ہوئے کوئی عورت شناخت نہیں کی جاسکتی۔یہ ایک ایسا پختہ اور ناقابل تردید استدلال ہے کہ کوئی شخص جو مجنون نہیں اس کے انکار کی جرات نہیں کر سکتا۔دوسری بات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ان الفاظ سے ثابت ہوتی ہے کہ: فخمرت وجهی بجلبا بی د یعنی جب میں صفوان کے الفاظ سے جاگی تو میں نے اُسے دیکھتے ہی اپنا چہرہ اپنی چادر سے ڈھانک لیا۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہ الفاظ اس بات کا قطعی اور یقینی ثبوت ہیں کہ چہرہ کا ڈھانکنا اسلامی پردہ کا لازمی حصہ ہے ورنہ وہ یہ ہرگز نہ فرماتیں کہ میں نے صفوان کو دیکھ کر اپنا چہرہ اپنی چادر