مضامین بشیر (جلد 2) — Page 990
مضامین بشیر ۹۹۰ نہیں اور نہ اس صورت میں نئے احکام کی کوئی ضرورت تھی۔یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ ان احکام سے پہلے مسلمان عورتیں نعوذ باللہ ننگے بدن پھرتی تھیں اور ان احکام کے بعد انہیں بدن ڈھانکنے کا حکم دیا گیا مگر چہرہ بدستور ننگا رہا لیکن یہ خیال بھی ( اگر کوئی شخص ایسا خیال کرنے کی جرات کرے ) بالبداہت باطل ہے کیونکہ اس بات کا ہر گز کوئی ثبوت نہیں اور نہ ہی یہ بات عقلاً باور کی جا سکتی ہے کہ پردہ کے احکام سے پہلے مسلمان عورتیں افریقہ کے وحشیوں کی طرح نعوذ باللہ نگی پھرتی تھیں کیونکہ یہ بات تاریخی شہادت سے ثابت ہے کہ عربوں میں باقاعدہ لباس کا رواج تھا۔پس بہر حال یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ جو بھی تبدیلی ہوئی وہ ننگے بدن کو ڈھانپنے سے تعلق نہیں رکھتی تھی۔بلکہ اس کے علاوہ کچھ اور تھی۔یہ تبدیلی کیا تھی ؟ اس کا جواب مجھے اپنی طرف سے دینے کی ضرورت نہیں ہر شخص خود سوچ سکتا ہے کہ جب بدن ڈھانک کر اور باقاعدہ لباس پہن کر پھرنے والی عورتوں کو پردہ کا حکم دیا گیا تو لازماً اس سے چہرہ کا پردہ ہی مراد لینا ہو گا۔پس خواہ پردہ کی تفصیل کچھ ہو بہر حال چہرہ پردہ سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا جا سکتا ورنہ نئے احکام کے نزول کے کچھ معنے نہیں رہتے اور ان احکام کے نازل کرنے کی ساری عقلی بنیا د باطل چلی جاتی ہے۔وھوالمراد۔اس تمہید کے بعد میں صحیح بخاری کی اس حدیث کو لیتا ہوں جس کی طرف میں نے اوپر اشارہ کیا ہے اور دراصل میرا یہ نوٹ اس وقت صرف اس حدیث تک ہی محدود ہے اور پردہ کے متعلق مفصل اور عمومی بحث کرنا اس جگہ میرا مقصد نہیں۔بخاری کی یہ حدیث بنو مصطلق سے تعلق رکھتی ہے جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ بنو مصطلق کی شرارتوں کے انسداد کے لئے ان کے مقابلہ کے واسطے مدینہ سے نکلے تھے۔یہ پردہ کے احکام نازل ہونے کے بعد کا واقعہ ہے اور شعبان ۰۵ھ سے تعلق رکھتا ہے۔اس سفر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی حضور کے ہمراہ تھیں۔سفر سے واپسی پر جب ایک رات کے وقت آرام کی خاطر پڑاؤ کیا گیا تو حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ میں ایک طرف ہو کر رفع حاجت کے لئے گئی۔جب میں وہاں سے واپس آئی تو میں نے دیکھا کہ میرے گلے کا ہار غا ئب ہے۔میں اس کی تلاش کے لئے پھر واپس گئی۔مگر اتنے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوچ کا حکم دے دیا تھا۔اب اتفاق یہ ہوا کہ جو لوگ حضرت عائشہ کے کجاوہ کو اٹھا کر اسے ان کے اونٹ پر رکھنے کے لئے مقرر تھے۔انہوں نے خالی کجاوہ ہی اٹھا کر اونٹ کے اوپر رکھ دیا اور چونکہ حضرت عائشہ اس وقت بہت چھوٹی عمر اور ہلکے جسم کی اور خوراک بھی کم تھی۔کجا وہ اٹھانے والوں نے اس بات کو محسوس نہ کیا کہ کجا وہ خالی ہے اور نہ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ کے پیچھے رہ جانے کا علم ہوا اور اس طرح قافلہ حضرت عائشہ کو پیچھے چھوڑ کر آگے روانہ ہو گیا۔حضرت عائشہ ” بیان کرتی ہیں کہ میں یہ ย