مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 989 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 989

۹۸۹ مضامین بشیر اسلامی پردہ کے متعلق ایک فیصلہ کن حدیث عورت کا چہرہ یقیناً پردہ میں شامل ہے کچھ عرصہ ہوا اسلامی پردہ کے متعلق میرا ایک نوٹ الفضل“ میں شائع ہوا تھا۔اس نوٹ میں میں نے اسلامی احکام پردہ کے متعلق سات نکات پیش کئے تھے جو میرے خیال میں پردہ کے مسئلہ میں اسلامی تعلیم کا نچوڑ اور خلاصہ ہیں اور مفصل مضمون کے متعلق میں نے آئندہ لکھنے کا وعدہ کیا تھا مگر افسوس ہے کہ ابھی تک مجھے اس کا موقعہ نہیں مل سکا۔بہر حال ذیل کے مختصر نوٹ میں اپنا موعودہ مضمون تو نہیں مگر اسلامی پردہ کے متعلق صحیح بخاری کی ایک ایسی حدیث پیش کرتا ہوں جو میری رائے میں اس بحث کے مرکزی حصہ کے متعلق بالکل فیصلہ کن ہے اور وہ ہے بھی ہماری ما در مشفق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی زبانی جو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سب سے زیادہ علم دین رکھنے والی تھیں۔مفصل مضمون انشاء اللہ پھر کبھی الفضل میں شائع کرانے کی سعادت حاصل کروں گا۔وما توفيقى الا بالله العظيم پردہ کی بحث کے تعلق میں تمہیدی طور پر یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اسلام میں پردہ کے احکام ہجرت کے پانچویں سال حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کی شادی کے موقعہ پر نازل ہوئے تھے۔یہ حضرت زینب وہی ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پھوپھی کی بیٹی تھیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کے منشاء کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت زید رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیاہی گئیں مگر مصلحتِ الہی سے یہ شادی کامیاب ثابت نہ ہوئی اور طلاق تک نوبت پہنچی۔جس کے بعد حضرت زینب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نکاح میں آگئیں اور اسی مبارک تقریب کے موقعہ پر پردہ کے احکام نازل ہوئے۔یہ واقعہ غزوہ بنو مصطلق سے پہلے ۵ ہجری کا ہے۔اب جاننا چاہئے کہ خواہ اسلامی پردہ کی کوئی تشریح کی جائے۔( ہمیں اس جگہ اس کی تفصیل سے غرض نہیں ) بہر حال یہ ماننا پڑے گا کہ پردہ کے احکام کے ذریعہ اسلامی تمدن اور مسلمان عورتوں کے رہنے سہنے کے طریق میں کوئی نہ کوئی تبدیلی آئی، ورنہ نئے احکام کے نزول سے پہلے بھی مسلمان عورتیں بے پردہ تھیں اور ان کے بعد بھی وہ بے پر دہی رہیں تو ہر عقلمند انسان خیال کر سکتا ہے کہ یہ کوئی تبدیلی