مضامین بشیر (جلد 2) — Page 987
۹۸۷ مضامین بشیر ترقی کے باوجود روحانی لحاظ سے گھاٹے میں پڑتا چلا جائے گا۔سوائے ان لوگوں کے جو ہمارے اس برگزیدہ نبی پر ایمان لا کر اعمال صالح بجالائیں اور دوسروں تک بھی پیغام حق پہنچاتے چلے جائیں اور ماحول کی مغویانہ کششوں کے باوجود خود بھی صبر و استقلال کے ساتھ نیکی پر قائم رہیں اور دوسروں کو بھی قائم کرنے کی کوشش کریں“ ان لطیف آیات اور ان سے اوپر کی لطیف حدیث میں مسلمانوں کے زمانہ کو عصر کے وقت سے تشبیہ دی گئی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی بتادیا گیا ہے کہ بیشک منکروں اور بے دینوں کے لئے یہ وقت خسارہ کا وقت ہے مگر سچے مومنوں اور نیک لوگوں کے لئے یہی وقت خدا تعالیٰ کے خاص انعام پانے کا بھی وقت ہے کیونکہ در اصل ظلمت کی شدت ہی نور کی قدر کو بڑھاتی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ غالباً اسی نسبت سے عرفات کے وقوف کے واسطے عصر کا وقت چنا گیا ہے تا کہ مسلمان اپنے قومی زمانہ کی نسبت سے اپنی دعاؤں میں زیادہ سے زیادہ توجہ دے کر زیادہ سے زیادہ برکات حاصل کر سکیں اور شاید اسی نسبت سے ہی عصر کی نماز کو صلوٰۃ وسطی قرار دے کر اس کی حفاظت پر زیادہ زور دیا گیا ہو۔بہر حال ہماری جماعت کے دوستوں کو چاہئے کہ وہ آنے والے حج کا دن خاص طور پر دعاؤں میں گزاریں اور زیادہ خصوصیت کے ساتھ عصر سے لے کر مغرب تک دعائیں کریں کیونکہ جیسا کہ اوپر اشارہ کیا گیا یہ بھی ہمارے خدا کی ایک سنت ہے کہ بسا اوقات رات کے پھیلتے ہوئے پروں پر خدا کی خاص نعمتیں سوار ہو کر آیا کرتی ہیں۔باقی رہا یہ کہ کیا دعائیں کی جائیں۔سو یہ سوال ہر شخص کو اپنے دل سے پوچھنا چاہئے۔کیا کوئی سوالی لوگوں سے یہ بات پوچھا کرتا ہے کہ میں کیا مانگوں۔وہ طبعا وہی چیز مانگتا ہے جس کی اسے یا اس کے خاندان کو یا اس کی قوم کو زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔پس خود اپنی ضرورتوں کو دیکھو اور ان کی اہمیت کا اندازہ کرو اور پھر خدا سے مانگو۔ہمارا خدا جو رب العالمین ہے۔جسم کا بھی خدا ہے اور روح کا بھی خدا ہے۔پس تمام مادی انعام بھی اس کے ہاتھ میں ہیں اور تمام روحانی انعام بھی اسی کے تصرف کے نیچے ہیں۔پس جب کہ وہ مادیت اور روحانیت ہر دو جہانوں کا مالک ہے تو کیوں نہ اس سے ہر وہ اچھی چیز مانگی جائے جس کی ہمیں ضرورت اور خواہش ہے اور قرآن نے کیا ہی بابرکت دعا سکھائی ہے کہ: ۱۲۸ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ BO د یعنی اے خدا ہمیں دنیا میں بھی خیر و برکت عطا کر اور آخرت میں بھی خیر و برکت عطا کر اور ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ رکھے۔