مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 983 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 983

۹۸۳ مضامین بشیر کے متعلق اسلام خاوند کو ( بوجہ اس کے کہ وہ گھر کا محافظ اور نگران ہے ) سزا کی اجازت دیتا ہے مگر اس بدنی سزا سے پہلے دو مرحلے گزر نے ضروری ہیں۔اول یہ کہ خاوند پند و نصیحت کے ذریعہ عورت کو سمجھانے کی کوشش کرے اور دوسرے یہ کہ اگر نصیحت کارگر نہ ہو تو احساس پیدا کرانے کی غرض سے اس سے گھر میں ہی عملی علیحدگی اختیار کرے لیکن اگر یہ تدبیر بھی کامیاب نہ ہو پھر بحالت مجبوری نافرمان اور سرکش اور ضدی عورتوں کے متعلق خاوند کو بدنی سزا کا حق دیا گیا ہے لیکن اس سزا کے لئے ہماری حکیمانہ شریعت نے یہ سات شرطیں ضروری قرار دی ہیں:۔(1) یہ کہ ایسی سزا صرف نشوز کے ارتکاب پر دی جائے نہ کہ ہر غلطی پر اور دی بھی اس وقت جائے جبکہ نصیحت اور حجر کی تمام تدابیر ناکام رہیں۔(۲) یہ کہ ایسی سزا سے بدن پر کوئی نشان نہ پڑے۔(۳) یہ کہ سزا اسخت اور تکلیف دہ نہ ہو بلکہ ہلکے رنگ میں دی جائے جیسے کہ مثلاً مسواک کی چوٹ لگتی ہے۔(۴) یہ کہ بہر حال چہرہ پر ضرب نہ لگائی جائے۔(۵) یہ کہ یہ سزا دوسروں کے سامنے نہ دی جائے بلکہ علیحدگی میں دی جائے۔(۶) یہ کہ عورت کی طرف سے اصلاح ہونے پر پچھلے تمام گلے شکووں کو بھلا کر دل صاف کر دیا جائے۔(۷) یہ کہ پھر بھی عورتوں کو بدنی سزاد ینے والے بحیثیت مجموعی اچھے لوگ نہیں سمجھے جا سکتے۔اس قرآنی تعلیم کے لئے میں عورتوں کو ہی منصف بناتا ہوں کہ وہ دیانت داری سے بتائیں کہ کیا ایک نافرمان اور سرکش اور خاوند کی باغی اور فاحشہ مبینہ کی مرتکب عورت کے واسطے جبکہ اس کی اصلاح کے لئے تمام دوسرے ذرائع ناکام ثابت ہوں اس قسم کی سزا غیر منصفانہ سمجھی جاسکتی ہے؟ باقی رہا نیک اور شریف عورتوں کا سوال، سو انہیں تو اسلام سر آنکھوں پر بٹھاتا ہے۔چنانچہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ : خير متاع الدنيا المراة الصالحة ۱۲۳ یعنی دنیا کی نعمتوں میں سے بہترین نعمت نیک اور شریف بیوی ہے۔“ اس ارشاد کے ہوتے ہوئے کون ظالم انسان اسلام کی تعلیم پر اعتراض کر سکتا ہے؟ قرآنی آیت کی تشریح کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ ان تین سزاؤں کو جو قرآن شریف نے بیان کی ہیں یعنی (۱) پند و نصیحت (۲) عملی علیحدگی (۳) بدنی سزا۔انہیں سب عورتوں کے لئے نہیں بلکہ عورتوں