مضامین بشیر (جلد 2) — Page 982
مضامین بشیر ۹۸۲ اور مارنے کی سزا کو مطلقاً نا پسند کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ :- لقد طاف آل محمد نساء كثير يشكو ازواجهن ليس اولئک بخيارهم د یعنی میرے اور میری بیویوں کے پاس بہت سی عورتیں یہ شکایت لے کر آئی ہیں کہ ان کے خاوند انہیں مارتے ہیں۔اے مسلمانو ! سن لو کہ ایسا کرنے والے خاوند ہر گز ا چھے مسلمان نہیں سمجھے جا سکتے۔“ گو یا بالفاظ دیگر طلاق کی طرح جس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ابغض حلال الى الله الطلاق (یعنی جائز باتوں سے خدا کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ہے ) شریعت نے خاص حالات میں جبکہ دوسرے تمام ذرائع ناکام ہو جائیں سرکش اور نافرمان عورتوں کے متعلق سزا کی اجازت تو بے شک دی ہے لیکن اسے ہرگز ایک اچھا فعل قرار نہیں دیا بلکہ صرف ایک مجبوری کا استثنائی قانون رکھا ہے اور حضرت عبد اللہ بن عباس کی تشریح کے ماتحت تو یہ سزا صرف ایک گونہ نا راضگی کی علامت ہی قرار پاتی ہے ورنہ مسواک سے مارنا کیا اور سزا کیا ! اور ہمارے آقا (فداہ نفسی ) کا ذاتی نمونہ یہ ہے کہ ایک وقت میں نو بیویاں رکھنے کے باوجود جس کے نتیجہ میں بعض اوقات گھر میں رنجش اور نا واجب مطالبات کی صورت بھی پیدا ہو جاتی تھی۔آپ نے کبھی کسی بیوی پر ہاتھ نہیں اٹھایا بلکہ ہمیشہ ان کے ساتھ نہایت درجہ مشفقانہ اور مربیانہ اور محسنا نہ سلوک رکھا اور اپنے صحابہ کو بھی بار بار یہی نصیحت کی ہے: خيركم خيركم لاهلها ۱۲۲ یعنی اے مسلمانو! تم میں اچھا شخص وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ سلوک کرنے میں اچھا ہے۔66 اور اگر آپ نے استثنائی حالات میں خاوند کو سزا کی اجازت دی تو اس اجازت کو بھی ایسی کڑی شرطوں کے ساتھ مشروط کر دیا کہ یہ اجازت کبھی بھی ایک دیندار خاوند کے ہاتھوں میں ظلم کا آلہ نہیں بن سکتی اور بے دین خاوند کو تو نہ اخلاق روک سکتے ہیں اور نہ شریعت۔دوسری طرف وہ کونسی سمجھدار خاتون ہے جو نافرمان اور سرکش اور کانگی امن کو برباد کرنے والی اور فاحشہ مبینہ کی مرتکب عورتوں کو بھی سزا کے قابل نہ سمجھے؟ جھوٹے جذبات کا معاملہ جدا گانہ ہے مگر عظمند انسان کی انصاف کی نظر اُسے اس کے سوا کسی اور نتیجہ کی طرف نہیں لے جاتی کہ جو تو تعلیم اسلام نے دی ہے یقیناً وہی حق وانصاف کی تعلیم ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ جو عورتیں صریح طور پر نافرمانی اور سرکشی اور بے حیائی کی مرتکب ہوتی ہیں ، ان