مضامین بشیر (جلد 2) — Page 87
۸۷ مضامین بشیر اگر قوموں کو ہی تقسیم کرنا ہے۔تو پھر کیوں یو۔پی اور بہار کے مسلمانوں کو بھی علیحدہ علاقہ نہ دیا جائے۔بہر حال یہ ہرگز عدل و انصاف کا طریق نہیں کہ انبالہ ڈویژن کے اکتیس لاکھ ہندوؤں کو تو بزعم خود پنجاب سے جدا کر کے محفوظ کر لیا جائے۔مگر یو۔پی اور بہار کے ایک کروڑ اکتیس لاکھ مسلمانوں کو ہندوؤں کے رحم پر رہنے دیا جائے۔باقی رہا سکھوں کا سوال ، سو ان کا معاملہ بے شک اس لحاظ سے قابل توجہ ہے کہ وہ صرف پنجاب ہی میں آباد ہیں اور کسی دوسرے صوبہ کی حکومت ان کے جذبہ وطنیت کی تسکین کا موجب نہیں ہوسکتی۔سوگو یہ ایک مجبوری کی صورت ہے۔جو کسی کے بس کی بات نہیں۔مگر بہر حال ان کے متعلق مسلمان اعلان کر چکے ہیں کہ اگر کسی علاقہ میں جو ایک معقول رقبہ اور صورت رکھتا ہو ، سکھوں کو اکثریت حاصل ہو تو اس علاقہ میں مسلمانوں کو ان کی حکومت پر اعتراض نہیں ہوگا۔اور جب تک انہیں اکثریت حاصل نہیں۔مسلمان انہیں تمام جائز اور ضروری تحفظات دینے کے لئے تیار ہیں۔یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ موجودہ صورت میں پنجاب کی تقسیم سکھوں کے لئے کسی طرح مفید نہیں ہو سکتی بلکہ وہ اپنی موجودہ ۳۷ لاکھ آبادی کو دو حصوں میں بانٹ کر اپنی طاقت کو اور بھی کمزور کر لیں گے۔پس موجودہ حالات میں ان کے لئے مسلمان کے ساتھ مل کر رہنا جن کے ساتھ ان کا مذہب اور تہذیب و تمدن بہت کچھ اشتراک رکھتا ہے، بہر حال مفید اور بہتر ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ پنجاب کی تقسیم کا سوال ہر لحاظ سے غیر منصفانہ اور قطعی طور پر نقصان دہ ہے اور پنجاب کے مسلمان بڑی سختی کے ساتھ اس ظالمانہ مطالبہ کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں اور اٹھاتے رہیں گے۔اور خود ہماری جماعت یعنی جماعت احمد یہ بھی جو موجودہ سیاسی جد و جہد میں جمہور مسلمانوں کے ساتھ ہے ، متعدد مرتبہ اس غیر معقول مطالبہ کے خلاف احتجاج کر چکی ہے۔لیکن چونکہ ایک چوکس اور دور بین قوم کو ہر امکانی خطرہ کے لئے تیار رہنا چاہئے۔اس لئے اگر خدانخواستہ ایسے اسباب کے نتیجہ میں جو فی الحال ہماری طاقت سے باہر ہیں۔پنجاب کی تقسیم وقتی طور پر ناگزیر ہو جائے ( وقتی طور پر اس لئے کہ بہر حال اسلام نے جس کے لئے حقیقہ وطن کی کوئی قید نہیں تمام اکناف عالم میں پھیلنا ہے اور پنجاب اور ہندوستان پر ہی بس نہیں۔بلکہ ساری دنیا کو ہی تبلیغ و تلقین کے ذریعہ اپنے اثر کے نیچے لانا ہے ) تو اس کے لئے بھی پہلے سے ضروری تفاصیل سوچ رکھنی چاہئیں۔اور میں انشاء اللہ اپنے اگلے مضمون میں اس کے متعلق کچھ عرض کرنے کی کوشش کروں گا۔وما توفيقى الا بالله العلى العظيم ( مطبوعه الفضل ۱۹ رمئی ۱۹۴۷ء )