مضامین بشیر (جلد 2) — Page 969
۹۶۹ مضامین بشیر دل میں پیدا ہوتی ہے۔اس جگہ میں اس فطری نعرہ لَو كَانُوا مُسْلِمِینَ کی ایک تازہ مثال پیش کرنا چاہتا ہوں۔جس کی گونج آجکل برطانیہ کی غیر اسلامی فضاء میں بڑے زور وشور کے ساتھ اٹھ رہی ہے۔سٹار ایجنسی نے لنڈن سے اطلاع دی ہے کہ : لنڈن ۳ رستمبر۔پروفیسر او کے لو جائے کی قیادت میں ایک کمیٹی یہاں اس بات کی تیاری کر رہی ہے کہ پارلیمنٹ کے ممبروں کے سامنے یہ تجویز پیش کی جائے کہ برطانیہ کے قانون شادی و بیاہ میں اصلاح ہونی چاہئیے۔یہ مہم پارلیمنٹ کے اس اجلاس کے ساتھ ہی بلا توقف شروع کر دی جائے گی جو ۲ استمبر سے منعقد ہونے والا ہے۔یہ تحریک پروفیسر لو جائے کی اس جدید تصنیف کی اشاعت سے شروع ہوئی ہے جس کا نام 'اب کوئی غیر شادی شدہ عورت نہیں رہے گی“ ہے اور جس کے اس وقت تک ۳۵ ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اور ابھی تک پبلک میں اس کتاب کی بے حد مانگ ہے۔مختصراً تجویز یہ ہے کہ ہر آدمی دو بیویاں کرے۔پروفیسر لو جائے کا جنہوں نے برطانیہ کے اعداد و شمار کا گہرا مطالعہ کیا ہے۔اندازہ ہے کہ اس طرح ملک کی ہر عورت کو خاوند مل جائے گا۔ایسے لوگ جو ایک بیوی رکھنے پر بھی چنداں خوش نہیں اور اس کا انتظام نہیں کر سکتے انہیں ایک بیوی کی اجازت ہوگی۔مگر ایسے لوگ تمام پبلک جگہوں میں ملکی عام آبادی سے ( جو تعدد ازدواج پر عامل ہو گی ) علیحدہ بٹھائے جائیں گے۔پروفیسر لو جائے نے ایک جدید مکمل ضابطہ ازدواج کا خاکہ تیار کر لیا ہے۔اس ضابطہ کی رو سے موجودہ قانون کو ( اس کی جذباتی بنیاد سے ہٹا کر ) زیادہ عملی اور کاروباری رنگ دے دیا جائے گا۔“ یہ خبر ( خواہ یہ تجویز فی الحال کامیاب ہو یا نہ ہو ) بہر حال اسلام کی ایک عظیم الشان فتح ہے کہ وہ ملک جس نے سینکڑوں سال تک اسلام کی تعدد ازدواج والی تعلیم کا نہائت سختی کے ساتھ مقابلہ کیا بلکہ نعوذ باللہ ا سے تعیش اور بد کاری تک کے قبیح الزامات کا نشانہ بنایا۔آج وہی ملک اپنے گھر یلو مسائل کے دباؤ سے مجبور ہو کر اس تعلیم کی طرف رجوع کر رہا ہے بلکہ اسلام نے تو تعددازدواج کی صرف اجازت ہی دی تھی اور وہ بھی خاص شرائط کے ساتھ مگر یہ ملک اسے ایک گونہ جبر کا رنگ دے کر اپنے سیاسی قانون کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔اور ایک بیوی پر قانع لوگوں کو گویا اچھوتوں کی طرح علیحدہ جگہ دے کر سوسائٹی کی نظروں میں مطعون کرنے کی تجویزیں سوچ رہا ہے۔کیا اس سے بھی بڑھ کر کسی تعلیم کی فتح ہو سکتی ہے؟