مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 966 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 966

مضامین بشیر ۹۶۶ مسلمانوں میں قائم کرنا چاہتا ہے اور جس کی طرف مثلاً قرآن شریف ان الفاظ میں اشارہ کرتا ہے که إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ ) یعنی نماز خلاف اخلاق اور خلاف دین باتوں سے روکنے کے لئے مقرر کی گئی ہے۔) اور حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ نماز مومن کا معراج ہے جس کے ذریعہ وہ خدا تک پہنچتا ہے مگر باوجود اس کے کہ نماز کی روح اس کی یہ اندرونی حقیقت ہے جو اوپر بیان کی گئی ہے۔کوئی عالم دین یہ نہیں کہہ سکتا کہ نماز کی ظاہری صورت کو ترک کر دیا جائے کیونکہ جب جسم ہی نہیں ہوگا تو روح کہاں سے آئے گی۔اور کہاں رہے گی ؟ یہی فلسفہ قربانیوں کے اس حکم میں بیان کیا گیا ہے جس سے بعض علماء غلط استدلال کر رہے ہیں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ : لَنْ يَنَالَ اللهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ۔یعنی اے مومنو! قربانیوں کے جانوروں کا گوشت اور خون خدا کو نہیں پہنچتا بلکہ اسے تمہاری طرف سے وہ تقویٰ کی روح پہنچتی ہے جس کے ماتحت تم یہ قربانیاں کرتے ہو۔“ کہا جاتا ہے کہ اس قرآنی آیت میں ینَالُهُ التقوی ( خدا کو تقویٰ کی روح پہنچتی ہے ) کے الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ قربانی کی ظاہری صورت کوئی چیز نہیں بلکہ تقویٰ کو مد نظر رکھتے ہوئے دوسرے رنگ میں خرچ کرنا بھی کافی ہو سکتا ہے۔یہ استدلال کتنا غلط کتنا بے بنیاد اور قرآنی محاورہ کے کتنا خلاف ہے۔ظاہر ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کا یہی منشاء تھا جو بعض جلد با زلوگوں نے اس آیت سے سمجھا ہے تو پھر اس آیت کے ساتھ لگتی ہوئی آیت میں انہی قربانیوں کے متعلق یہ کیوں فرمایا گیا کہ : فَكُلُوا مِنْهَا وَ أَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ ط دو یعنی اے مسلمانو تم ان قربانیوں کا گوشت خود بھی کھاؤ اور اپنے باقناعت عزیزوں دوستوں اور ہمسایوں کو بھی کھلاؤ اور پھر ایسے لوگوں کو بھی کھلاؤ جو غریب اور مصیبت زدہ ہیں خواہ وہ سائل ہوں یا غیر سائل“ اس آیت کے ساتھ جوڑ کر اوپر والی آیت کو بیان کرنا صاف ثابت کرتا ہے کہ اس جگہ قربانیوں کی ظاہری صورت اور ان کی اندرونی روح دونوں کی حکمت بیان کرنا مقصود ہے۔دراصل يناله التقوى والی لطیف آیت میں خدا تعالیٰ نے وہی حکیمانہ انداز اختیار فرمایا ہے جو دیگر احکام شریعت کے متعلق اختیار کیا گیا ہے۔یعنی قربانیوں کے جسم (یعنی ان کی ظاہری شکل وصورت ) کے ساتھ ساتھ ان کی اندرونی روح کی طرف بھی توجہ دلائی ہے تا کہ مسلمان صرف اعمال کے جسم میں ہی الجھ کر نہ رہ