مضامین بشیر (جلد 2) — Page 960
مضامین بشیر ۹۶۰ عناصر کا مجموعہ ہونی چاہئیے۔یعنی (۱) حکمت (ب) موعظہ حسنہ ( ج ) کج بحثیوں والے مناظرہ سے اجتناب ( د ) بحث میں صرف احسن دلیل کا استعمال اور (ہ) البلاغ المبین یعنی کھلا کھلا دوٹوک انتباہ (و) ساری کی ساری صداقت پیش کرنا اور (ز) تعلیم کا عملی نمونہ پیش کرنا۔اور دوسری طرف تبلیغ کی کامیابی کے معیار کے متعلق اسلام فرماتا ہے کہ :۔(1) تبلیغ کا اصل معیار خود تبلیغ ہے یعنی جو شخص پوری دیانت داری اور پوری پوری توجہ اور محنت کے ساتھ لوگوں تک پیغام حق پہنچا دیتا ہے اور تبلیغ کی تمام ضروری شرائط کو ملحوظ رکھتا ہے وہ خدا کے نزد یک فریضہ تبلیغ سے عہدہ برآ سمجھا جائے گا خواہ اس کے ہاتھ پر حق قبول کرنے والوں کی تعداد تھوڑی ہی ہو یا بالکل ہی نہ ہو۔البتہ جس طرح انکار کرنے والے اپنے انکار کے متعلق خدا کے سامنے جوابدہ ہوں گے اس طرح پیغام حق پہنچانے والا بھی اس بات کے متعلق جواب دہ ہو گا کہ اس نے فریضہ تبلیغ کے ادا کرنے میں کسی قسم کی سستی یا غفلت یا بز دلی یا بد عملی وغیرہ سے تو کام نہیں لیا۔(۲) بایں ہمہ ہر مبلغ کے دل میں یہ تڑپ ہونی چاہئیے کہ اس کے ذریعہ سے جتنی زیادہ سے زیادہ روحیں بچ سکیں انہیں بچانے کی کوشش کرے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس جائز فخر کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے سائی ہو کہ انی مکاثر بکم الامم (۳) با وجود اس کے موجودہ زمانہ میں جب کہ اسلام کا مقابلہ افراد کے باطل خیالات کی نسبت زیادہ تر قوموں کے نظام ہائے باطلہ کے ساتھ ہے اور مغربی اقوام کی مادیت (جس کا دوسرا نام دجال ہے ) اسلام کی سب سے بڑی دشمن ہے۔مغربی ممالک کے مبلغین کی تبلیغی کامیابی کا معیار فی الحال نو مسلم افراد کی تعداد سے چنداں تعلق نہیں رکھتا بلکہ ان کے کام کے اس پہلو سے تعلق رکھتا ہے کہ انہوں نے مادیت کے دیو ہیکل بت کو توڑنے کے لئے کیا جد و جہد کی ہے اور ان کے ذریعہ احرار یورپ کا مزاج کسی حد تک راہ راست پر آیا ہے۔اس چیز کا تو لنا اور پرکھنا ایک بڑے نازک تر از وکا متقاضی ہے لیکن خدا کالوزن الحق بھی وہ کامل و مکمل مشینری ہے جو کسی قابل شمار چیز کو حساب سے باہر نہیں چھوڑتی اور اس کے راسخ فی العلم بندے بھی اس کی دی ہوئی فراست کے ماتحت مبلغوں کی نبض پر ہاتھ رکھ کر اس بات کا اندازہ کرنا جانتے ہیں کہ وہ کتنے پانی میں ہیں۔بس اس وقت اس مسئلہ کے متعلق صرف اسی قدر لکھنا کافی ہوگا۔ولكل درجات مما عملوا وما ربك بغافل عما يعملون ولا حول ولا قوة الا بالله العظيم ( مطبوعه الفضل ۳۱ / اگست ۱۹۵۰ء)