مضامین بشیر (جلد 2) — Page 949
۹۴۹ مضامین بشیر تبلیغ کے سات زریں اصول مبلغ کی کامیابی کا معیار نومسلموں کی تعداد نہیں بلکہ اس کی اپنی تبلیغی جدو جہد ہے ہمارے ایک دوست جو ایک یورپین ملک میں تبلیغ اسلام کی غرض سے گئے ہوئے ہیں ، ایک خط میں لکھتے ہیں کہ تبلیغ کے کام میں ہمارے سامنے ایک بڑی مشکل یہ در پیش رہتی ہے کہ ہماری تبلیغی جد و جہد کے نتیجہ کا معیار کیا سمجھا جائے ؟ لوگ عموماً نو مسلموں کی تعداد سے کسی مبلغ کی کامیابی کا اندازہ لگاتے ہیں اور اگر کسی مبلغ کے زمانہ میں نومسلموں کی تعداد کم ہو تو وہ اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ یہ مبلغ کامیاب نہیں رہا۔اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جہاں ملکی حالات کے ماتحت نو مسلموں کی تعداد شروع شروع میں زیادہ نہیں ہوتی وہاں نہ صرف مبلغ کو نا کام سمجھا جاتا ہے بلکہ بعض اوقات خود مبلغ کے دل میں بھی ایک گونہ احساس کمتری کا جذبہ پیدا ہو کر اس کے تبلیغی شوق اور تبلیغی جد و جہد کو کمزور کر دیتا ہے۔یہ الفاظ میرے ہیں مگر ہمارے اس دوست کے خط کا مفہوم کچھ اس سے ملتا جلتا تھا۔اس کے ساتھ ہی اس دوست نے اسلامی طریق تبلیغ کے متعلق بھی کچھ روشنی چاہی ہے۔سو میں ذیل میں ان ہر دو سوالوں کا مختصر مگر اصولی جواب دینے کی کوشش کروں گا۔پہلے میں دوسرے سوال کو لیتا ہوں جو تبلیغ کے طریق سے تعلق رکھتا ہے کیونکہ حقیقہ اسی پر پہلے سوال کے جواب کا بڑی حد تک دار و مدار ہے۔سوال یہ ہے ( گو اس میں پھر الفاظ میرے ہیں اور مفہوم ہمارے دوست کا کہ تبلیغ کا اسلامی طریق کیا ہے۔یعنی اسلام نے تبلیغ کے طریق کے متعلق کونسی اصولی ہدایت جاری کی ہے؟ سواس کے جواب میں میں اس جگہ صرف چار قرآنی آیتوں پر اکتفا کروں گا جو مختصر ہونے کے باوجود اپنے اندر وسیع معانی رکھتی ہیں۔ایک جگہ قرآن شریف فرماتا ہے کہ :- أدْعُ إِلى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ و یعنی اپنے خدا کے رستہ کی طرف حکمت اور موعظہ حسنہ کے ذریعہ دعوت دو اور