مضامین بشیر (جلد 2) — Page 946
مضامین بشیر ۹۴۶ کو نین میسر نہیں آئی ہم اس بات کے کہنے کا حق رکھتے ہیں کہ اگر اسے کونین ( جو ہمارے خدا کی ہی بتائی ہوئی ایک مادی تدبیر ہے ) میسر آ جاتی تو وہ بچ جاتا کیونکہ بہر حال ان ہر دوصورتوں میں ہم خدا کی تقدیر کے اندر رہتے ہیں بلکہ یہ حق ہے کہ اگر ہم ایسا نہ سمجھیں تو دنیا کی ساری علمی ترقی ختم ہو جاتی اور انسان جبری نظریہ پر قائم ہو کر ایک منجمد پتھر کی صورت اختیار کر لیتا ہے جسے اپنی حفاظت اور اپنی ترقی کا کوئی اختیار حاصل نہیں رہتا۔آخر یہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہسپتالوں کا سلسلہ کیوں قائم ہے؟ کیا اس لئے نہیں کہ بیماروں کو خدا کی تقدیر شر سے بچا کر اس کی تقدیر خیر کی طرف کھینچا جائے ؟ پھر کیا ہمارے رسول (فداہ نفسی) نے اپنے بچے ابراہیم کی وفات پر یہ الفاظ نہیں فرمائے کہ :- لو عاش لكان صديقانبياً - یعنی اگر میرا یہ بچہ ابراہیم ( اس بیماری سے بچ کر ) زندہ رہتا تو وہ یقیناً خدا کا 66 ایک صدیق نبی بنتا۔“ اب اگر بیماری سے بچنے کا کوئی سوال پیدا ہی نہیں ہوتا یا اگر کسی بیمار کے فوت ہو جانے پر اس کی زندگی کے امکانی پہلو کو سامنے رکھ کر کوئی بات کہی ہی نہیں جا سکتی تو پھر نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول بے سود اور عبث قرار پاتا ہے۔خوب غور کرو کہ حضرت ابراھیم کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اگر وہ اس بیماری سے بچ جاتا اور زندہ رہتا تو وہ نبی ہوتا۔ظاہر کرتا ہے کہ آپ اس کی زندگی کے امکان کو تسلیم فرماتے تھے تو پھر اگر اسی اصول کے ماتحت میں نے بھی اس قسم کی امکانی بات کہہ دی تو اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟ دوسرا سوال جاوید سلمہ کا یہ ہے کہ اگر جیسا کہ میں نے اپنے مضمون میں لکھا ہے ”خدا کا علم انجام پیدا نہیں کرتا بلکہ انجام کی وجہ سے علم پیدا ہوتا ہے۔“ تو اس سے لازم آتا ہے کہ نعوذ باللہ خدا عالم الغیب نہیں کیونکہ انجام کے بعد تو علم ہر شخص کو ہو جاتا ہے اور خدا کی کوئی خصوصیت نہیں رہتی وغیرہ وغیرہ۔مجھے عزیز جاوید سلمہ کے اس سوال پر تعجب بھی ہوا اور افسوس بھی۔میں نے یہ ہرگز نہیں کہا تھا کہ انجام کے بعد خدا تعالیٰ کا علم پیدا ہوتا ہے بلکہ یہ کہا تھا کہ انجام کی وجہ سے خدا تعالیٰ کا علم پیدا ہوتا ہے اور ان دونوں باتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے اور میں حیران ہوں کہ ایک تعلیم یا فتہ نو جوان اس واضح فرق کو نہیں سمجھ سکا۔میرا مطلب بالکل صاف تھا کہ خدا چونکہ عالم الغیب ہے اس لئے اسے لازماً یہ علم ہوتا ہے کہ فلاں چیز کا انجام اس اس طرح ہو گا لیکن جیسا کہ میں نے اصل مضمون میں جاپان کے زلزلہ کی مثال دے کر وضاحت کی تھی خدا کا یہ علم انجام کا باعث نہیں بنتا بلکہ ہونے والا انجام خدا کے علم کا باعث بنتا ہے۔یعنی دوسرے الفاظ میں کسی چیز کا انجام کسی خاص رنگ میں اس لئے رونما نہیں۔