مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 945 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 945

۹۴۵ مضامین بشیر د یعنی خدا کے قانون میں ہر بیماری کا علاج موجود ہے مگر جب (انسانی مشین کے 66 گھنے کے نتیجہ میں ) موت کا وقت آجائے تو پھر وہ نہیں ٹلتا۔“ اس لطیف حدیث میں آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کے دونوں پہلو نمایاں کر کے بیان فرما دئے ہیں یعنی (۱) اگر صرف بیماری کا سوال ہے تو وہ صحیح علاج سے ٹل سکتی ہے کیونکہ کوئی بیماری ایسی نہیں جس کا خدا کے قانون میں علاج موجود نہ ہولیکن (۲) اگر موت کا ہی وقت آ پہنچا ہے تو پھر خدا کی وہ اٹل تقدیر ہے جس کے لئے ہر انسان کو تیار رہنا چاہئیے۔اسی سوال کے ضمن میں جاوید سلمہ کا دوسرا استفسار یہ ہے کہ جو شخص صحیح علاج کے میسر آتے رہنے کے نتیجہ میں بیماریوں وغیرہ کی موت سے بچ جاتا ہے اور پھر آخر اپنے بڑھاپے کی عمر کو پہنچ کر فوت ہوتا ہے تو کیا ایسے شخص کی موت خدا کی تقدیر عام کے ماتحت سمجھی جائے گی یا نہیں ؟ اور اگر وہ تقدیر عام کے ماتحت سمجھی جائے گی تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس صورت میں گو یا تقدیر عام بھی اٹل ہوگئی اور معلق نہ رہی ( یہ الفاظ میرے ہیں جن میں میں نے جاوید سلمہ کے سوال کو زیادہ معین اور زیادہ مضبوط صورت دے کر بیان کیا ہے ) اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جہاں تک مطلق موت کا سوال ہے وہ ہر انسان کے لئے ایک تقدیر مزم ہے جو کسی صورت میں ٹل نہیں سکتی۔چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے : كُلُّ نَفْسٍ ذَابِقَةُ الْمَوْتِ یعنی ہر انسان کے لئے موت کے رستہ سے گزرنا مقدر ہو چکا ہے۔“ لیکن جہاں تک موت کے وقت کا سوال ہے۔وہ طبعی موت کی صورت میں بھی ایک تقدیر معلق ہے جو آگے پیچھے ہو سکتی ہے کیونکہ جیسا کہ ہر شخص جانتا ہے اور میڈیکل سائنس اس کی تصدیق کرتی ہے قانون قدرت کے گوناگوں اثرات کے ماتحت مختلف انسانوں کی جسمانی مشینری مختلف طاقتوں کی ہوتی ہے۔یعنی کوئی انسان زیادہ مضبوط قویٰ کا مالک ہوتا ہے اور کوئی نسبتا کم مضبوط قوی رکھتا ہے اور اس کے نتیجہ میں لازماً انسانی مشینری کے گھس گھس کر ختم ہونے کے زمانہ میں بھی فرق پڑ جاتا ہے۔پس طبعی موت کی صورت میں بھی ہر انسان کی زندگی کا زمانہ اور ہر انسان کی موت کا وقت مختلف سمجھا جائے گا اور مناسب احتیاط کے نتیجہ میں اس میں خفیف تبدیلی ممکن ہو گی مگر بہر حال جلد یا بدیر انسانی جسم کی فانی مشین کسی نہ کسی دن گھس گھس کر ضر ورختم ہو جائے گی۔فانھم و تدبر اسی تعلق میں جاوید سلمہ کا تیسرا استفسار ہے کہ جب ایک انجام عملاً ظاہر ہو جائے یعنی مرنے والا بیمار مر جائے تو کیا پھر بھی یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر صحیح علاج ہوتا تو بیمار بچ جاتا۔میں کہتا ہوں کہ ہاں پھر بھی ایسا کہا جا سکتا ہے کیونکہ جب مثلاً ایک شخص ملیریا کی بیماری سے اس لئے مرتا ہے کہ اسے وقت پر