مضامین بشیر (جلد 2) — Page 944
مضامین بشیر - ۹۴۴ گا۔جاوید صاحب کا کہنا ہے کہ اس طرح تو انسان کی زندگی اس کے اپنے اختیار میں سمجھی جائے گی نہ کہ خدا کے اختیار میں ؟ اس سوال کا (جسے میں نے اپنے الفاظ میں ڈھال دیا ہے ) پہلا جواب تو یہ ہے کہ اگر ایک بیمار صحیح علاج سے صحت پا جاتا ہے تو کیا یہ قانون بھی (یعنی ایسے بیمار کا صحت پا جانا ) خدا کا بنایا ہوا قانون نہیں ؟ تو جب ایک بیمار کا صحیح علاج سے صحت پا جانا بھی خدا ہی کے قانون کے ماتحت ہے تو بہر حال انسان کی زندگی اور موت کا معاملہ خدا کے ہاتھ میں ہی ہوا نہ کہ خود انسان کے اپنے ہاتھ میں۔ظاہر ہے کہ اس دنیا پر خدا کی حکومت اس کی اس قانون قدر خیر وشر کے ذریعہ سے ہی ہے جو اس نے خود بنایا اور خود رائج کیا ہے۔پس اگر کوئی شخص غلط علاج سے مرتا ہے تو خواہ یہ غلطی خود اس کی اپنی ہی ہومگر بہر حال وہ مرتا خدا کے قانون کے ماتحت ہے اور اسی طرح اگر کوئی شخص صحیح علاج سے صحت پا جاتا ہے تو خواہ یہ صحیح علاج اس کی اپنی کوشش کا ہی نتیجہ ہو اس کا صحت پانا بھی لازماً خدا کے قانون کے ماتحت ہی ہوتا ہے۔پس حکومت بہر حال خدا کی ہی رہی نہ کہ انسان کی !! دوسرا جواب اس سوال کا یہ ہے جسے ہمارے نوجوان عزیز نے بالکل ہی نظر انداز کر دیا ہے کہ خدا کی تقدیر عام کے ماتحت انسان کی موت صرف بیماری یا حادثہ کے نتیجہ میں ہی نہیں آتی بلکہ طبعی طریق پر بھی آتی ہے۔پہلی صورت کی مثال یوں سمجھی جاسکتی ہے کہ ایک مشین کو کوئی حادثہ پہنچے اور اس حادثہ کی وجہ سے وہ ٹوٹ پھوٹ کر ختم ہو جائے اور دوسری صورت کی مثال یہ ہے کہ مشین کو کوئی حادثہ تو نہ پہنچے مگر لمبے استعمال کی وجہ سے اس کے پرزے گھس گھس کر طبعی رنگ میں اپنی عمر پوری کر کے ختم ہو جائیں۔پس گو یہ بالکل درست ہے کہ ایک بیمار صحیح علاج سے بچ سکتا ہے مگر اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ ایسے شخص کے لئے موت کا دوسرا رستہ جو طبعی طریق پر مقرر ہے وہ بھی بند ہو گیا ہے؟ اگر ایک انسان بیماری یا حادثہ والی موت سے نہیں مرے گا لازماً کچھ عرصہ کے بعد وہ طبعی رنگ میں جائے گا جو انسانی مشین کے گھس گھساؤ (Wear tear) سے تعلق رکھتا ہے اور یہ دونوں قانون ہمارے خدا ہی کے بنائے ہوئے ہیں۔پس کسی صورت میں بھی اعتراض کی گنجائش نہیں سمجھی جا سکتی۔جاوید سلمہ کو غالباً دھو کہ یہ لگا ہے کہ وہ انسانی موت کو صرف بیماری یا حادثہ کا نتیجہ خیال کرتے ہیں حالانکہ موت کے لئے خدا کے قانون قدرت نے دو جدا گانہ رستے مقرر کر رکھے ہیں یعنی ایک تو موت بیماری یا حادثہ کے نتیجہ میں آتی ہے جس کے معنی انسانی مشینری کے ٹوٹ پھوٹ جانے کے ہیں اور دوسرے وہ طبعی عمر پوری ہو جانے کے نتیجہ میں آتی ہے جس کے معنی انسانی مشین کے گھس گھس کر ختم ہو جانے کے ہیں۔اسی لئے ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اور کیا خوب فرماتے ہیں کہ : لكل داء دواء الا الموت ۱۸۷