مضامین بشیر (جلد 2) — Page 939
۹۳۹ مضامین بشیر ہے یعنی مسلمانوں کے اندر جانی قربانی کی روایات کو زندہ رکھنا اور اس کی تربیت دینا۔(۷) یہ اندیشہ بالکل موہوم ہے کہ عید الاضحیٰ کی قربانیوں سے ملک کے جانور اتنے کم ہو جائیں گے کہ خوراک کی قلت کا اندیشہ پیدا ہو جائے گا اگر چودہ سو سال میں کسی ملک میں یہ خطرہ پیدا نہیں ہوا تو پاکستان میں کیوں پیدا ہو گا ؟ خصوصاً جب کہ قربانی کرنے والا طبقہ ملکی آبادی کا ایک بہت ہی قلیل حصہ ہوتا ہے اور پھر شریعت نے خود بھی قربانی کے لئے مناسب حد بندیاں مقرر کر رکھی ہیں۔علاوہ ازیں اگر حکومت جانوروں کی نسلی افزائش اور ان کی بیماریوں کے انسداد کے لئے ضروری تدابیر اختیار کرے تو جانوروں کی قلت کا کوئی دور کا امکان بھی نہیں رہتا۔میں سمجھتا ہوں کہ میں نے اس مسئلہ کے سارے ضروری پہلوؤں پر جو اس وقت زیر بحث ہیں اصولی روشنی ڈال دی ہے مگر اصل بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے دلوں میں دین کے لئے رغبت اور دینی باتوں کے لئے احترام کا جذبہ اور احکام شریعت کے سیکھنے کا شوق پیدا ہو کیونکہ اس کے بغیر موجودہ زمانہ کے مادی رجحانات کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا اور جب تک دل بیمار ہے جراح کا علاج کوئی مفید نتیجہ پیدا نہیں کر سکتا۔ہمارے آقا صلے اللہ علیہ وسلم نے کیا خوب فرمایا ہے کہ : ان في جسد الانسان مضغة اذا فسد فسد الجسد كله واذا صلح صلح الجسد كله الا وهي قلب یعنی انسان کے جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ایسا ہے کہ اگر وہ خراب ہو جائے تو تمام جسم خراب ہو جاتا ہے اور اگر وہ ٹھیک ہو تو تمام جسم ٹھیک ہو جاتا ہے اوراے مسلما نو کان کھول کر سن لو کہ وہ دل ہے۔“ پس ضرورت دل کے ٹھیک ہونے کی ہے کیونکہ گو خیالات اور اعمال کا آلہ دماغ اور اعضاء ہیں مگر تقویٰ کا مرکز دل ہے اور تقویٰ اس بیج اور جڑھ کا نام ہے جس سے تمام نیک خیالات اور نیک اعمال کا درخت پیدا ہوتا ہے۔ہمارے سلسلہ کے مقدس بانی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا خوب کہا ہے کہ : ہر اک نیکی کی جڑھ اتقاء اگر ہے جڑھ رہی سب کچھ رہا ہے پس اب میں اپنے ناظرین سے اجازت چاہتا ہوں۔واخر دعونا ان الحمد لله رب العالمين - ( مطبوعه الفضل ۱۹ اگست ۱۹۵۰ء)