مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 82 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 82

۸۲ مضامین بشیر دوحصوں میں بٹنے سے اپنی طاقت کو اور بھی کم کر دیتا ہے۔تو پھر کیوں نہ وہ اس قوم کے ساتھ جوڑ ملائے جس کے ساتھ اس کا پیوند ایک طبعی رنگ رکھتا ہے۔اور پھر اس کے بعد محبت اور تعاون کے طریق پر اور ترقی کے پر امن ذرائع کو عمل میں لا کر اپنی قوم کو بڑہائے اور اپنے لئے جتنا بڑا چاہے وطن پیدا کر لے۔آج سے پچاس سال قبل سکھ پنجاب میں صرف ہیں بائیس لاکھ تھے مگر اب اس سے تقریبا ڈیڑھ دو گنے ہیں۔اسی طرح آج سے چالیس سال قبل مسلمان پنجاب میں اقلیت کی حیثیت رکھتے تھے مگر اب وہ ایک قطعی اکثریت میں ہیں اور اس کے مقابل پر ہندو برابر کم ہوتا گیا ہے۔۔پس اس قدرتی پھیلا ؤا اور سکیٹر کو کون روک سکتا ہے؟ پس سکھوں کو چاہیے کہ غصہ میں آکر اور وقتی رنجشوں کی رو میں بہہ کر اپنے مستقل مفاد کو نہ بھلا ئیں۔انہیں کیا خبر ہے کہ آج جس قوم کے ساتھ وہ سمجھوتا کر کے پنجاب کو دوحصوں میں بانٹنا چاہتے ہیں۔وہ کل کو اپنی وفاداری کا عہد نہ نبھا سکے اور پھر سکھ نہ ادھر کے رہیں اور نہ اُدھر کے۔ان کے لئے بہر حال حفاظت اور ترقی کا بہترین رستہ یہی ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ ایک باعزت سمجھوتہ کر لیں اور مسلمانوں کا فرض ہے کہ ان کے جائز اور معقول مطالبات کو فراخدلی کے ساتھ قبول کریں۔بالآخر سکھ صاحبان کو یہ بات بھی ضرور یاد رکھنی چاہئے کہ خواہ کچھ ہوسکھوں کے لا تعداد مفاد وسطی اور شمالی اور مغربی پنجاب کے ساتھ وابستہ ہیں۔ان کے بہت سے مذہبی مقامات ان علاقوں میں واقع ہیں۔ان کی بہترین جائیدادیں ان علاقوں میں پائی جاتی ہیں۔ان کے بہت سے قومی لیڈرانہی علاقوں میں پیدا ہوئے اور انہی میں جوان ہوئے اور انہی میں بس رہے ہیں۔اور پھر ان کی قوم کا بہترین اور غالباً مضبوط ترین حصہ جسے سکھ قوم کی گویا جان کہنا چاہئے انہی علاقوں میں آباد ہے۔تو کیا وہ ہند و قوم کے عارضی سیاسی سمجھوتہ کی وجہ سے جس کا حشر خدا کو معلوم ہے ، اپنے اس وسیع مفا دکو چھوڑ کو مشرقی پنجاب میں سمٹ جائیں گے؟ خالصہ ہوشیار باش۔خالصہ ہوشیار باش۔( مطبوعه الفضل ۹ رمئی ۱۹۴۷ء)