مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 918 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 918

مضامین بشیر ۹۱۸ دے۔ایسا شخص اپنی جس خیالی بھٹی کی آگ سے بھاگتا ہے، اسے اس بھٹی سے بدر جہا سخت تر حقیقی بھٹی میں سے گزرنا ہوگا اور تب جا کر اس کے گناہ کی تلافی کی امید ہو سکتی ہے۔آخر ہمارا رحیم و کریم خدا وہی تو ہے جو جب اپنے بندوں کے کسی سخت جرم پر کسی سخت سزا کوضروری قرار دیتا ہے تو پھر نہ تو وہ اس کے دکھ کا کوئی خیال کرتا ہے اور نہ اس کے عزیزوں اور رشتہ داروں کی مصیبت کا کوئی لحاظ رکھتا ہے۔چنانچہ ہمارا خدا تمہارا خدا اس دنیا کا خدا رحمت و بخشش کا مجسمہ کس جلال کے ساتھ فرماتا ہے کہ :۔فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْبِهِمْ فَسَوْهَا وَلَا يَخَافُ عُقْبُهَان یعنی خدا نے اپنے نظام کا مقابلہ کرنے والوں کو ہلاک کر کے زمین کیساتھ پیوست کر دیا اور اس وقت خدا کو اس بات کی وجہ سے کوئی تامل نہ ہوا کہ ان لوگوں 66 کے عذاب کا نتیجہ کیا نکلتا ہے اور ان کے پیچھے رہنے والوں پر کیا گزرتی ہے۔“ ہماری جماعت پر بھی یہ ایک نازک ترین دور ہے۔پس خدا کے لئے اس دور کی نزاکت کو سمجھو اور خدا کی تقدیر کا مقابلہ کرنے والوں میں سے نہ بنو ورنہ اگر تمہارا خدا ایک طرف رحیم وکریم ہے تو دوسری طرف وہ قہارا اور شدید العقاب بھی ہے۔اگر وہ ایک طرف دنیا کے سب عزیزوں سے بڑھ کر محبت کرنے والا ہے تو دوسری طرف جب اس کے عذاب کی چکی گھومتی ہے تو وہ باغیوں کو ریزہ ریزہ کئے بغیر نہیں چھوڑتی۔اس وقت فرشتے بھی لرزہ براندام ہوتے ہیں اور نبیوں کی زبان پر بھی نفسی نفسی کے سوا کوئی اور لفظ نہیں آسکتا۔سو میرے عزیز و! آپ بھی اس وقت ایک غیر معمولی زمانہ میں غیر معمولی خدمت کے لئے کھڑے ہوئے ہیں۔اگر آپ اس خدمت میں سرخرو ہوئے تو صرف آپ ہی نہیں بلکہ آپ کے عزیز اور آپ کی آئندہ نسلیں بھی خدا کی غیر معمولی نعمت سے حصہ پائیں گی اور خدا کے ابدی دربار میں آپ کے نام بڑی عزت کے ساتھ لکھے جائیں گے لیکن اگر آپ نے تھک کر یا کسی فتنہ کی رو میں بہہ کر خدا کے نظام سے غداری کی تو یا د رکھو کہ آپ کا شب و روز کی محنت سے کا تا ہوا سب سوت کٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور آپ اسی طرح خدائی گرفت کا نشانہ بنیں گے جس طرح کہ پہلے لوگ بنے یا جس طرح کہ اب عبدالکریم بنا جو کسی زمانہ میں تمہاری طرح کا ہی ایک درویش تھا۔خدا نہ کرے کہ ایسا ہو۔ہاں خدا نہ کرے کہ ایسا ہو۔میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے اکثر مخلص اپنی مشکلات کی طرف سے آنکھیں بند کئے ہوئے اس طرح خدمت دین میں لگے ہوئے ہیں کہ مجھے حقیقتہ ان کی حالت پر رشک آتا ہے مگر بعض نوجوان اپنی مشکلات کی وجہ سے پریشان بھی ہیں لیکن کیا کبھی کوئی خدائی قوم مشکلات اور قربانیوں کی آگ میں سے