مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 907 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 907

۹۰۷ مضامین بشیر کا تصرف دنیا کے ذرہ ذرہ پر قائم ہے اور کوئی چیز اس کی حکومت سے باہر نہیں۔یہ اُسی حکیم وقد بر خدا کا قانون ہے جو ایک انسان کو بیمار کرتا اور دوسرے کو شفا دیتا ہے اور ایک کو زندگی بخشتا اور دوسرے کو موت کے گڑھے میں دھکیل دیتا ہے اور گو اعمال انسان کے ہیں مگر ان اعمال کا نتیجہ بہر حال خدا کا ہے جو ایک زبر دست مشینری کے طور پر ہر وقت چکر میں ہے۔لیکن چونکہ خدا کا قانون اُس کی مشیت پر مبنی ہے اور اس کی مشیت نہایت درجہ لطیف اور گہرے مادی اور روحانی فلسفہ پر قائم ہے۔اس لئے خدا کی ازلی حکمت نے قانون قدر خیر و شر کو دوحصوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ایک عام قانون ہے جسے تقدیر عام یا تقدیر معلق کا نام دیا جاتا ہے اور دوسرے خاص قانون ہے جسے تقدیر خاص یا تقدیر مبرم سے موسوم کیا جاتا ہے۔تقدیر عام یا تقدیر معلق اس قانون کا نام ہے جو قانون قدرت یا قانون نیچر یا قانونِ قضاء و قدر کی صورت میں دنیا پر حاوی ہے۔اور دنیا کی کوئی چیز اس کے تصرف سے باہر نہیں مثلاً یہ تقدیر معلق ہے کہ اگر کو نین کھاؤ گے تو ملیریا کے کیڑے مریں گے اور اگر سنکھیا کھاؤ گے تو تمہاری اپنی زندگی کا خاتمہ ہو جائے گا اور اس تقدیر کو تقدیر معلق یعنی لٹکی ہوئی تقدیر اس لئے کہتے ہیں کہ یہ تقدیر ایک اٹل اور غیر مبدل نتیجہ کی صورت میں جاری نہیں ہوتی بلکہ خاص قسم کے حالات اور خاص قسم کی شرائط کے ساتھ مشروط ہوتی ہے۔یعنی اگر اس قسم کے حالات ہوں گے تو یہ نتیجہ پیدا ہوگا اور اگر دوسری قسم کے حالات ہوں گے۔تو دوسرا نتیجہ پیدا ہوگا اور دنیا کا عام نظام اسی تقدیر کے ماتحت چل رہا ہے اور یہ تقدیر دنیا کے لئے ایک بھاری رحمت ہے کیونکہ دنیا میں دوسرے علوم کی ترقی اور سائنس کی عجیب وغریب ایجادات اور علم طلب کے باریک در بار یک قوانین سب اسی تقدیر عام پر مبنی ہیں بلکہ اگر یہ تقدیر نہ ہو تو یہ سارا کارخانہ عالم ایک آن واحد میں ٹوٹ پھوٹ کر ختم ہو جائے اور دنیا میں کوئی نظام باقی نہ رہے مثلاً اگر آگ کبھی جلائے اور کبھی ٹھنڈا کر دے اور پانی کبھی بجھائے اور کبھی آگ لگا دے اور کونین کبھی ملیریا کے کیڑوں کو مارے اور کبھی اُنہیں بڑھانا شروع کر دے اور ان چیزوں کی کوئی خاصیت ان کے اندر ایک قانون کی صورت میں قائم نہ ہو تو ظاہر ہے کہ یہ سارا نظام درہم برہم ہو کر دنیا میں ہر چیز کا خاتمہ کر دے۔پس خواص الاشیاء کا غیر مبدل وجود اور تقدیر عام کا پیش آمدہ حالات کے ساتھ متعلق ہونا اور حالات کے بدلنے سے بدل جانا دنیا کے نظام اور دنیا کی ترقی کا حقیقی راز ہے۔اس صورت میں اس بات میں کیا شبہ ہوسکتا ہے کہ اگر ایک خطر ناک بیمار کو کسی وجہ سے صحیح علاج میسر نہیں آیا یا معالج کی غلطی یا نا واقعی سے غلط علاج ہو گیا تو ایسا بیمار خدا کی تقدیر عام کے ماتحت ضرور مرے گا کیونکہ جو حالات اسے پیش آئے۔ان کا طبعی نتیجہ موت تھی اور اس صورت میں اس کے مرنے میں ہی دنیا کی ترقی کا راز مضمر ہے لیکن اگر ایسے بیمار کو صحیح علاج