مضامین بشیر (جلد 2) — Page 904
مضامین بشیر ۹۰۴ آماجگاہ رہا ہے کہ خدا کی پناہ۔ایک فریق اس خیال کی طرف جھک گیا ہے کہ خدا نے ازل سے ہر انسان کے نیک و بد اعمال لکھ رکھے ہیں۔اور وہ اپنی تقدیر کے اس نوشتہ کے مطابق چلنے پر مجبور ہے اور اس کی کوئی کوشش اسے اس رستہ سے ہٹا نہیں سکتی۔ہاں بے شک خدا ہر شخص کے میلان اور استعداد اور جد و جہد کو دیکھ کر حق و انصاف کے ساتھ دنیا کی آخری عدالت کرے گا۔یہ وہ طبقہ ہے جو جبر یہ کہلاتا ہے۔اس کے مقابل پر دوسرا طبقہ قدریہ کے نام سے موسوم ہے۔اس طبقہ کا یہ خیال ہے کہ انسان اپنے اعمال میں پوری طرح صاحب اختیار ہے کہ اگر چاہے تو نیکی اور صلاحیت اور کامیابی اور ترقی کا راستہ اختیار کرلے اور اگر چاہے تو بدی اور بد اخلاقی اور نامرادی اور تنزل کے رستہ پر پڑ جائے اور اس کے انہی خود اختیاری افعال کے مطابق خدا تعالیٰ اس کے اعمال کے نتائج پیدا کرے گا۔آجکل کی آزاد خیال دنیا کا بیشتر حصہ جبریہ نظریہ کو کلیۂ رد کر کے بلکہ اسے مضحکہ خیز قرار دے کر کامل طور پر قدر یہ نظریہ کی طرف جھکا ہوا ہے اور گو وہ خدا یا جزا سزا کا قائل نہ ہو مگر بہر حال انسان کو اس کے اعمال اور اس کے طریق کار کے انتخاب میں کلی طور پر آزاد اور صاحب اختیار خیال کرتا ہے اور دوسرا طبقہ دوسری انتہا پر جا کر انسانی اعمال میں کسی مجبوری کا بھی قائل نہیں۔مگر حق یہ ہے اور نیچر اور فطرتِ انسانی کے گہرے مطالعہ سے یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ نہ تو انسان اپنے اعمال میں کلی طور پر آزاد ہے اور نہ کلی طور پر مجبور ہے بلکہ بعض اعمال میں وہ بڑی حد تک آزاد ہے اور بعض میں وہ بڑی حد تک مجبور ہے۔انسانی اعمال کے آزاد ہونے کے لئے مجھے اس جگہ کسی مثال کے پیش کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ ایک واضح اور بد یہی بات ہے جو ہمارے روز مرہ کے مشاہدے سے تعلق رکھتی ہے لیکن مجبوری کے ثبوت کا سوال بھی کوئی زیادہ غور نہیں چاہتا۔اس کی ایک موٹی مثال یوں سمجھی جا سکتی ہے کہ ایک شخص پیدائشی طور جمالی صفات لے کر اس دنیا میں آیا ہے اور نرمی اور عفو کا طریق اس کی فطرت کا حصہ ہے اور وہ ہر غلطی پر سزا دینے کی بجائے محبت کے رنگ میں سمجھانے اور پند و نصیحت پر زور دینے اور بیشتر صورتوں میں عفو کے ذریعہ اصلاح کرنے کا رستہ اختیار کرتا ہے لیکن ایک دوسرا شخص ہے جو فطرتاً جلالی صفات کا حامل ہے اور تادیب اور اجراء قانون اور غلطیوں کے ارتکاب کو سزا کے ذریعہ روکنے اور اختیارات کے زور سے ہر بدی کی اصلاح کرنے کی طرف زیادہ میلان رکھتا ہے۔اب ظاہر ہے کہ ان دونوں قسم کے لوگوں کے سینکڑوں بلکہ ہزاروں اعمال میں حتیٰ کہ روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی ان کے اس جدا گانہ فطری میلان کا طبعی طریق پر اظہار ہوگا۔اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس متضاد فطری میلان کی وجہ سے جمالی صفات والا انسان کبھی کبھی نا واجب نرمی اور غیر مناسب عفو