مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 79 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 79

۷۹ مضامین بشیر میں سوال یہ ہے کہ پنجاب کی تقسیم ان کے لئے کون سا حفاظت کا رستہ کھولتی ہے؟ وہ بہر حال پنجاب کے مشرقی حصہ میں بھی ایک اقلیت ہوں گے۔جو وسیع ہندو اکثریت کے رحم پر ہوگی۔اور اکثریت بھی وہ جو صرف انہی کے علاقہ میں اکثریت نہیں ہو گی۔بلکہ سارے ہندوستانی صوبوں کی بھاری اکثریت اس کی پشت پر ہوگی۔یہ ماحول کس زندہ اور مستقل قوم کو چین کی نیند سونے دے سکتا ہے؟ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ جب قو میں دو ہیں تو پھر ان کا موجودہ سیاسی سمجھوتہ بھی کسی اعتبار کے قابل نہیں۔کیونکہ اسے کل کے حالات بدل کر کچھ کی کچھ صورت دے سکتے ہیں۔چنانچہ اوپر والے مضمون میں ہی ماسٹر تا راسنگھ صاحب لکھتے ہیں کہ :- " لڑائی جھگڑے تو زمانہ کے حالات کے ماتحت ہوتے اور مٹتے رہتے ہیں۔نہ کبھی کسی قوم سے دائمی لڑائی ہو سکتی ہے اور نہ دائمی صلح۔اب بھی ہمارا مسلمانوں کے ساتھ کبھی جھگڑا ہوگا اور کبھی صلح ہوگی۔یہی صورت ہندوؤں کے ساتھ ہونی ضروری ہے۔“۔۔اور ماسٹر تارا سنگھ صاحب کے خیال پر ہی بس نہیں دنیا کی تاریخ شاہد ہے کہ دو مستقل قوموں میں اس قسم کے عارضی سیاسی سمجھوتے ہرگز اس قابل نہیں ہوا کرتے کہ ان کے بھروسہ پر ایک قوم اپنی طاقت کو کمزور کر کے ہمیشہ کے لئے اپنے آپ کو دوسری قوم کے رحم پر ڈال دے اور سکھ صاحبان تو اپنی گزشتہ ایک سالہ تاریخ میں ہی ایک تلخ مثال دیکھ چکے ہیں۔مگر افسوس ہے کہ وہ پھر بھی حقائق سے آنکھیں بند رکھنا چاہتے ہیں۔کہا جا سکتا ہے کہ گزشتہ فسادات میں سکھوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں نقصان پہنچا ہے۔اس لئے انہیں مسلمانوں پر اعتبار نہیں رہا۔میں گزشتہ اڑھائی ماہ کی تلخ تاریخ میں نہیں جانا چاہتا مگر اس حقیقت سے بھی آنکھیں بند نہیں کی جاسکتیں کہ سب جگہ مسلمانوں کی طرف سے پہل نہیں ہوئی۔اور زیادہ ذمہ داری پہل کرنے والے پر ہوا کرتی ہے۔اور فسادات تو جنگل کی آگ کا رنگ رکھتے ہیں۔جو ایک جگہ سے شروع ہو کر سب حصوں میں پھیل جاتی ہے اور خواہ اس آگ کا لگانے والا کوئی ہو۔بعد کے شعلے بلا امتیا ز سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا کرتے ہیں۔میں اس دعوی کی ذمہ داری نہیں لے سکتا کہ مسلمانوں نے کسی جگہ بھی زیادتی نہیں کی۔لیکن کیا سکھ صاحبان یہ یقین رکھتے ہیں کہ سکھوں نے بھی کسی جگہ زیادتی نہیں کی ؟ آخر امرت سر میں چوک پر اگ داس وغیرہ کے واقعات لوگوں کے سامنے ہیں۔اور پھر کئی جگہ بعض بے اصول ہندؤوں نے تیلی لگا کر سکھوں اور مسلمانوں کو آگے کر دیا ہے۔اور بالآخر کیا سکھوں کے موجودہ حلیفوں نے بہار میں ہزار ہا کمزور اور بالکل بے بس مسلمانوں پر وہ