مضامین بشیر (جلد 2) — Page 875
۸۷۵ مضامین بشیر زندہ ہونے میں کب پائی جاسکتی ہے؟ ایک دنیا دار جسمانی مردہ کے زندہ ہونے کا مطلب سوائے اس کے کچھ نہیں کہ ایک قبر میں سوئے ہوئے انسان کو قبر سے اٹھا کر دو چار دن یا دو چار سال کے لئے دوبارہ سانس لینے اور اپنے پیٹ کا دوزخ بھرنے یا تجارت وصنعت وحرفت میں مشغول ہونے کے لئے زندہ کر دیا جائے لیکن اس کے مقابل پر ایک روحانی مردہ کا زندہ ہونا اور ایک خدا کے منکر کا خدا پرست بن جانا اور ایک بے دین انسان کا دیندار ہو جانا یہ معنی رکھتا ہے کہ گویا ایک مٹی میں لت پت انسان کو اٹھا کر اور ایک زمین کے کیڑے کو ہوا میں بلند کر کے ثریا تک پہنچا دیا جائے۔آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے ایک دہریہ اور مشرک اور بے دین اور مادہ پرست اور بداخلاق اور جاہل قوم کو اپنی آواز سے اٹھا کر موحد اور خدا پرست اور دیندار اور علم و عرفان سے آراستہ قوم بنا دیا مگر افسوس کہ مادہ پرست اور شعبدہ پسند لوگوں کی آنکھیں ایک جسمانی مردہ کو دو چار دن یا دو چار سال زندہ ہوتے دیکھنے کے لئے ترستی ہیں مگر اس بے نظیر اور شاندار نظارہ کو دیکھنے اور اس سے متاثر ہونے کے لئے تیار نہیں ہوتیں جس میں ایک مردہ قوم اور ایک مردہ ملک کو علم و عرفان اور روحانیت کی ابدی زندگی سے مالا مال کر دیا گیا۔قتل الانسان ما اكفره۔یہی حال حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی سلسلہ احمدیہ کے معجزات کا ہے۔حضور نے بھی خدائی سنت کے مطابق سینکڑوں معجزات دکھائے جن کے ذکر سے ہماری جماعت کا لٹریچر بھرا پڑا ہے لیکن پھر بھی لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب نے کون سا مردہ زندہ کیا اور قبر میں سوئے ہوئے کس شخص کو آواز دے کر جگا دیا ؟ میں کہتا ہوں کہ بے شک اپنے آقا اور سردار محمد مصطفیٰ صلے اللہ علیہ وسلم کی طرح آپ نے کسی جسمانی مردے کو زندہ نہیں کیا لیکن اپنی روحانی قوت اور خدا دا د طاقت کے ذریعہ آپ نے لاکھوں بے دین انسانوں کو دیندار بنا کر اور بے شمار مردہ روحوں کو زندگی کا پانی پلا کر وہ معجزہ دکھایا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا حقیقتا کسی اور نبی نے نہیں دکھایا۔آج کل کی مادہ پرستی اور بے دینی کے ماحول میں کسی ایک مردہ روح کو زندہ کرنا بھی آسان کام نہیں لیکن حضرت مرزا صاحب نے خدا کے فضل سے کئی لاکھ بھٹکی ہوئی روحوں کو خدا کے آستانے پر لا ڈالا مگر افسوس کہ مادہ پرست اور تماشہ بین لوگ ان باتوں کو دیکھنے کے لئے تیار نہیں۔لیکن کیا یہ بات بھی لوگوں کو نظر نہیں آتی کہ اپنی انتہائی غربت اور بے سروسامانی کے باوجود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی چھوٹی سی جماعت اپنے تبلیغی کام کی وجہ سے ساری دنیا پر چھائی ہوئی ہے؟ دوسرے مسلمان اس وقت چالیس کروڑ ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں لیکن وہ کوئی ایک مشن یا ایک