مضامین بشیر (جلد 2) — Page 854
مضامین بشیر ۸۵۴ شریف نہایت لطیف انداز میں فرماتا ہے کہ : ۲۸ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ أَنْبِيَاءَ وَجَعَلَكُمْ قُلُوكًا " یعنی اے بنی اسرائیل کی قوم خدا کی اس نعمت کو یاد رکھو کہ اس نے تم میں نبی پیدا کئے اور تم کو بادشاہ بنایا“ اس آیت میں خدا تعالیٰ نے جہاں نبوت کے انعام کو جَعَلَ فِيْكُمْ أَنْبِيَاءَ ( تم میں نبی بنائے ) کے الفاظ سے یاد فرمایا ہے وہاں ( اس کے مقابل پر ملوکیت یعنی بادشاہت کے انعام کا صرف جَعَلَكُمْ قُلُوكًا ( تم کو بادشاہ بنایا ) کے الفاظ سے ذکر کیا ہے۔ان ہر دو الفاظ کا فرق بالکل ظاہر و عیاں ہے جس میں یہی اشارہ کرنا مقصود ہے کہ جہاں نبوت ایک انفرادی انعام ہے جو حقیقتا صرف ایک فرد کی ذات کے ساتھ مخصوص اور وابستہ ہوتا ہے اور ساری قوم کی طرف منسوب نہیں ہوسکتا وہاں ملوکیت یعنی بادشاہت درحقیقت ایک قومی انعام ہے جو ساری قوم کی طرف منسوب ہوسکتا ہے اور ہونا چاہئے۔بے شک جس خاندان یا جس قوم میں کوئی نبی یا رسول مبعوث ہوتا ہے وہ اس خاندان یا قوم کے لئے بھی بھاری شرف اور فضیلت کا موجب بن جاتا ہے لیکن باوجود اس کے نبوت کے انعام کی نسبت بہر حال ذاتی اور انفرادی رہتی ہے مگر اس کے مقابل پر ملوکیت کے انعام کی نسبت گویا قومی رنگ اختیار کر لیتی ہے اور ساری قوم بادشاہ کہلانے کی حق دار بن جاتی ہے۔اسی لئے خدا تعالیٰ نے اس آیت میں ایک جگہ جَعَلَ فِيكُمْ تم میں نبی بنائے کے الفاظ فرمائے ہیں اور دوسری جگہ جَعَلَكُمْ قُلُوكًا ( تم کو بادشاہ بنایا ) کے الفاظ رکھے ہیں تا کہ ان دو قسم کے انعاموں میں امتیاز قائم کر دیا جائے۔پس جب ہمارے علیم و حکیم خدا نے نبوت اور ملوکیت کے انعاموں میں امتیاز ملحوظ رکھا ہے کہ ایک کو انفرادی انعام گردانا ہے اور دوسرے کو قومی انعام قرار دیا ہے تو ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم خواہ مخواہ نئی اصطلاحوں کے شوق میں خاندان نبوت کی اصطلاح ایجاد کر کے اس خدائی امتیاز میں رخنہ نہ پیدا کر یں۔اس اصول کے ماتحت میرے خیال میں خاندان مسیحیت وغیرہ کے الفاظ بھی درست نہیں ہوں گے بلکہ جیسا کہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے فرمایا ہے ” خاندان حضرت مسیح موعود کی اصطلاح ہی مناسب اور درست ہے۔دراصل غور نہیں کیا گیا ورنہ یہ بات آسانی سے سمجھی جا سکتی تھی کہ ” خاندانِ نبوت کے معنی ”نبی کے خاندان کے نہیں ہیں۔بلکہ ” نبیوں کے خاندان‘یا’ نبوت والے خاندان کے ہیں اور ظاہر ہے کہ اوپر والی تشریح کی روشنی میں کسی نبی کے خاندان کے متعلق اس قسم کے الفاظ استعمال کرنا درست اور جائز نہیں سمجھا جا سکتا۔یہ سوال ہو سکتا ہے کہ نبوت اور ملوکیت کے انعاموں میں یہ امتیاز کیوں رکھا گیا ہے کہ ایک کو