مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 836 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 836

مضامین بشیر ۸۳۶ احباب جماعت کی خدمت میں خاص دعاؤں کی تحریک جیسا کہ وقت کے حالات سے ظاہر ہے اور حضرت امیر المؤمنین خلیفہ اسی الثانی اید اللہ بنصرہ العزیز اپنے بہت سے اعلانوں اور تقریروں میں بار بار توجہ دلا چکے ہیں، یہ ایام بے حد نازک ہیں اور اس بارہ میں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ نے وقتاً فوقتاً اپنے بعض رؤیا بھی شائع فرمائے ہیں اور بعض دوسرے احمدیوں کی خوا ہیں مزید براں ہیں۔پس احباب جماعت کو چاہئے کہ آجکل خصوصیت سے دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ اسلام اور احمدیت کا حافظ و ناصر ہو اور ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ رکھے۔ظاہر ہے کہ جہاں ایک طرف ہر خدائی جماعت کے رستہ میں لازماً بعض امتحان اور ابتلاء مقدر ہوتے ہیں ، وہاں دوسری طرف مومنوں کا یہ فرض بھی ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف امتحان کے وقت میں کامل صبر و ثبات سے کام لیں بلکہ آنے والے ابتلاؤں کے پیش نظر خدا کے حضور اپنی متضرعانہ دعاؤں کے ساتھ جھکے رہیں۔اسی طرح آج کل حضرت امیر المومنین خلیفہ المسح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے لئے بھی خصوصیت سے دعائیں کرنی چاہئیں۔اللہ تعالیٰ کی بہت سے تقدیروں کے ساتھ انسانی کوششوں کی تاریں بھی لیٹی ہوئی ہوتی ہیں اور بعض انسانوں کو تو اللہ تعالیٰ نے فضل و نصرت کے میدان میں غیر معمولی طور پر مخصوص مقام عطا کیا ہوتا ہے۔چنانچہ جس رنگ میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی قیادت میں اللہ تعالیٰ نے ہر مرحلہ پر جماعت کو استحکام اور ترقی عطا کی ہے وہ خدا کی خاص نصرت کی دلیل ہے۔اس لئے جماعت کا فرض ہے کہ موجودہ اور آنے والے امتحانوں کے پیش نظر حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو اپنی مخصوص دعاؤں میں جگہ دیں۔دوستوں کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ایسے موقعوں پر دعاؤں کی قبولیت میں تین باتیں بڑا بھاری اثر رکھتی ہیں۔ان میں ایک صدقہ و خیرات ہے جس پر ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑا زور دیا ہے۔دوسرے روزہ ہے جس پر امت کے صلحاء کا ہر زمانہ میں خاص عمل رہا ہے کہ وہ ہر پریشانی کے وقت میں نماز کے ساتھ نفلی روزہ کو شامل کرتے رہے ہیں اور تیسری بات اپنے نفس میں نیک تبدیلی اور انابت الی اللہ کا پیدا کرنا ہے جو اسلام کا اصل الاصول ہے کیونکہ جب بندہ ایک نیک تبدیلی کے ساتھ خدا کے حضور جھکتا ہے تو ہمارا مہربان آسمانی آقا بھی اس کی دعاؤں کو لازماً زیادہ