مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 824 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 824

مضامین بشیر ۸۲۴ کی بات نہیں۔خصوصاً جب کہ یہ وہ مسئلہ ہے جس میں خود امام صاحب کے شاگر درشید امام ابو یوسف نے بھی ان سے اختلاف کیا ہے بہر حال اگر فقہی مسائل میں امام ابو حنیفہ امام مالک سے اختلاف کر سکتے ہیں اور امام شافعی امام ابو حنیفہ سے اختلاف کر سکتے ہیں۔اور امام احمد بن حنبل امام شافعی سے اختلاف کر سکتے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اگر خود امام ابو حنیفہ کے وہ شاگرد جنہوں نے برسوں ان کے سامنے زانوئے تلمذ طے کر کے استفاضہ کیا ( یعنی امام محمد اور امام ابو یوسف ) اپنے استاد کے بیسیوں فقہی فتوؤں سے اختلاف کر سکتے ہیں (جس کی مثالیں فقہ کی کتابوں میں بھری پڑی ہیں ) تو اگر کسی اور نے قرآن وحدیث کی بناء پر ان سے کسی فقہی مسئلہ میں اختلاف کا اظہار کیا تو یہ ہرگز کوئی قابل اعتراض بات نہیں بلکہ اختلاف امتی رحمۃ کی ایک دلچسپ مثال سمجھی جائے گی۔بے شک امام ابو حنیفہ نے بٹائی والی مزارعت ( یعنی زمینداری کے طریق پر کسی دوسرے سے اپنی زمین بٹائی پر کاشت کرانے ) کو جائز قرار نہیں دیا لیکن ان کے شاگر د امام ابو یوسف نے اسے جائز قرار دیا ہے اور کروڑوں حنفی صاحبان اس معاملہ میں امام ابو یوسف کی رائے کے فتوے پر عمل کرتے رہے ہیں بلکہ حق یہ ہے کہ اس مسئلہ میں حنفیوں کا عملی مسلک ہمیشہ امام ابو یوسف کے خیال کے مطابق ہی رہا ہے۔اور ان سے قبل آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین اور صحابہ کرام کا بھی اسی کے مطابق عمل تھا تو پھر حضرت امام جماعت احمدیہ کے اس ظنی اختلاف کو کس طرح قابل اعتراض قرار دیا جا سکتا ہے۔خصوصاً جبکہ آپ کا یہ اختلاف قرآن و حدیث کے واضح حوالوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور خلافت راشدہ کے مبارک اسوہ پر (جو اصل بنیادی چیز ہے۔) مبنی ہے۔جن میں سے کئی حوالے ” اسلام اور زمین کی ملکیت میں پیش کئے جاچکے ہیں اور اس جگہ ان کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔اس کے بعد فاروقی صاحب یہ جرح فرماتے ہیں کہ گویا میں نے موجودہ اقتصادی حالات کی اصلاح کو محض بھاری ٹیکسوں کے اندر محصور کر دیا ہے حالانکہ غرباء کی امداد محض ٹیکسوں سے نہیں ہو سکتی۔اگر میں بار بار اس بات کو دہراؤں کہ فاروقی صاحب میرے وہ الفاظ پیش فرما ئیں جن میں میں نے اصلاح کے سوال کو محض بھاری ٹیکسوں کے اندر محصور کیا ہے تو یہ ایک نا گوار صورت ہو جائے گی۔اس لئے صرف اس قدر عرض کرتا ہوں کہ میں نے ایسا ہر گز نہیں لکھا اور میں ایسا لکھ بھی کیسے سکتا تھا جبکہ میں نے اپنے اس مضمون میں خود طوعی قربانی اور قانون ورثہ اور سود کی حرمت وغیرہ کا بھی ذکر کیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی لکھ دیا تھا کہ اس جگہ میرا مقصد اسلام کے اقتصادی نظام کی تشریح پیش کرنا نہیں بلکہ صرف اس نظام کے فلسفہ اور حکمت کی طرف اشارہ کرنا اصل مقصد ہے اور وہ بھی