مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 819 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 819

۸۱۹ مضامین بشیر حال ہے۔اور پھر یہ خرابیاں بھی کسی ایک دائرہ سے تعلق نہیں رکھتیں بلکہ سیاسی اور اقتصادی اور تمدنی اور جذباتی وغیرہ کئی قسم کے میدانوں سے تعلق رکھتی ہیں۔اور جب تک ہر میدان میں صحیح اصلاح کی صورت پیدا نہیں کی جائے گی اس وقت تک کسی ایک بات کو لے کر یہ خیال کرنا کہ اس کی طرف توجہ دینے سے الہ دین کے لیمپ کی طرح سارے روگ خود بخود دور ہو جائیں گے ایک خطر ناک غلط فہمی ہے۔کیا بڑے زمیندار کی زمین چھین کر چھوٹے زمیندار کا شتکار کو دے دینے سے اس چھا بڑی لگانے والے کی تسلی ہو جائے گی جو اپنے سامنے ایک عالیشان دوکان میں لاکھوں روپے کا مال دیکھ رہا ہے؟ پھر کیا زمیندار کو اس کی زمین سے محروم کر دینے کے نتیجہ میں اس غریب مزدور کا دل خوش ہو جائے گا جو ایک بڑے کارخانہ میں دو تین روپے یومیہ پاتا ہے اور اس کی آنکھوں کے سامنے کا رخانہ کا مالک سونے میں لوٹتا پوتا ہے؟ پھر کیا کاشتکار کو زمیندار کی زمین مل جانے سے دفتر کے اس چپڑاسی کو اطمینان قلب حاصل ہو جائے گا جو چالیس یا پچاس روپے ماہوار میں اپنی زندگی کی تلخ منزلیں کاٹ رہا ہے لیکن اسی دفتر میں اس کا افسراڑھائی تین ہزار روپیہ ماہوار لے کر اپنے گھر کو عیاشی کا گہوارہ بنائے ہوئے ہے ؟ اسی طرح دوسرے بے شمار میدانوں کا حال ہے جن میں ایک طرف حالات کے غیر معمولی تفاوت نے اور دوسری طرف احساس کی غیر معمولی شدت نے خیالات کا ایک زبر دست ہیجان پیدا کر رکھا ہے۔پس اگر محض مادی قانون کے پیچھے چلنا ہے تو ہر میدان میں امتیاز کو اڑا کر سب کو ایک سطح پر لانا ہوگا اور اگر اسلام کے روحانی علاج کو اختیار کرنا ہے تو سب سے مقدم دلوں کی اصلاح کا سوال ہے۔فاروقی صاحب نے خود مانا ہے کہ قرون اولے کے زمانہ میں دولت کے اختلاف کے باوجود لوگ خوش تھے۔یہ کیوں؟ بس اسی میں فاروقی صاحب کے اعتراض کا اصولی جواب آجاتا ہے کیونکہ اس سے پتہ لگتا ہے کہ اصل مرض دولت کا اختلاف نہیں بلکہ دولت کا غلط استعمال ہے جس سے مراد وہ نا گوار تمدنی اور جذباتی خلیج ہے جس نے موجودہ زمانہ میں اخوت اسلامی کے نظام کو تہس نہس کر رکھا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کو بھائی سمجھے لیکن کیا آج کا بڑا زمیندار چھوٹے زمیندار کو اپنا بھائی سمجھتا ہے؟ ہرگز نہیں۔حالانکہ آنحضرت صلعم کے زمانہ میں بڑا زمیندار چھوٹے زمیندار کو بھائی خیال کرتا تھا۔پھر کیا آج کا بڑا تاجر چھوٹے تاجروں کو بھائیوں کی طرح ملنے کے لئے تیار ہے؟ ہرگز نہیں۔حالانکہ صحابہ کے زمانہ میں بڑا تاجر چھوٹے تاجروں سے بھائیوں کی طرح ملتا تھا۔پھر کیا آج کا افسر اپنے ماتحتوں کو اپنی برادری کا حصہ یقین کرتا ہے؟ ہرگز نہیں۔حالانکہ قرون اولیٰ میں ہر افسر ( محکمانہ نظام کے علاوہ ) اپنے سب ماتحتوں کو اپنا عزیز سمجھتا اور اسی رنگ میں ان سے سلوک کرتا تھا۔اسی طرح قربانی کی روح کا حال ہے کہ اپنے بھائیوں