مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 804 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 804

مضامین بشیر ۸۰۴ اسلام اور زمین کی ملکیت فاروقی صاحب کے تبصرے پر تبصرہ حال ہی میں حضرت امام جماعت احمدیہ کی ایک تازہ تصنیف شائع ہوئی ہے جس کا نام ”اسلام اور زمین کی ملکیت ہے۔بعض ضمنی مباحث کے علاوہ اس کتاب میں ان تین اہم سوالوں پر اسلامی نکتہ نظر سے بحث کی گئی ہے کہ : (۱) کیا اسلام زمین کی انفرادی ملکیت کی اجازت دیتا ہے؟ (۲) کیا اسلام انفرادی ملکیت پر اس قسم کی کوئی حد بندی عاید کرتا ہے کہ ایک مالک کے پاس اس اس قدر رقبہ سے زیادہ زمین نہیں رہ سکتی ؟ (۳) کیا اسلام اس امر کی اجازت دیتا ہے کہ زمین کا مالک اپنی زمین کسی اور شخص کو کاشت پر دے اور اس سے اپنے حق ملکیت کے عوض میں بٹائی یا نقد لگان وصول کرے؟ یہ تین سوالات اس کتاب کا اصل موضوع ہیں۔گو ضمنی طور پر بعض اور مباحث بھی اختصار کے ساتھ شامل کر لئے گئے ہیں۔اس کتاب کے متعلق لاہور کے مشہور اخبار آفاق کی پچھلی اشاعت میں ایک صاحب فہیم احمد صاحب فاروقی ایم۔اے کا تبصرہ شائع ہوا ہے اور ایڈیٹر صاحب آفاق“ نے لکھا ہے کہ اگر کوئی اور صاحب فاروقی صاحب کے جواب میں لکھنا چاہیں تو ان کے لئے بھی آفاق کے صفحات حاضر ہیں۔اس اجازت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں فاروقی صاحب کے تبصرہ کے متعلق کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔سب سے پہلے میں اس خوشی کا اظہار کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ فاروقی صاحب کا یہ تبصرہ متانت اور وقار کے انداز میں لکھا ہوا ہے اور اس کی عبارت اور لب ولہجہ میں کوئی ایسی بات نہیں جسے شرافت اور سنجیدگی سے گرا ہوا سمجھا جائے اور ملک کی خوش قسمتی ہے کہ کم از کم اس کا ایک طبقہ اختلاف کے با وجود ہر بات کو متانت اور سنجیدگی کے ساتھ پر کھنے اور دلائل و براہین کی کسوٹی پر جانچ پڑتال کرنے کے لئے تیار ہے اور دراصل یہی ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ نفسی ) کے اس حکیمانہ ارشاد کا مقصد ہے کہ اختلاف امتی رحمۃ۔یعنی میری امت کا اختلاف رحمت کا موجب