مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 803 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 803

۸۰۳ مضامین بشیر پریشانی کو ہلکا کرنے کی کوشش کریں ان پر دوسروں کے کھانے کا بوجھ ڈال کر ان کی پریشانی میں اضافہ کیا جاتا ہے اور سنت نبوی سے انحراف مزید براں ہے۔پس ہمارے دوستوں کو ان سب غیر مسنون رسموں سے پر ہیز کرنا چاہیئے۔ضمناً یہ بات بھی قابل ذکر ہو کہ کسی عزیز کے مرنے پر نوحہ کرنا یا بین ڈالنا یا چھاتی پیٹنا یا کپڑے پھاڑ نا یاکسی اور طرح جزع فزع کرنا اسلام میں منع ہے۔البتہ کسی عزیز کی موت پر غم اور صدمہ محسوس کرنا یا آنکھوں میں آنسو آ جانا فطری رحمت کا حصہ ہے اور ہر گز منع نہیں بلکہ حدیث سے ثابت ہے کہ بعض صحابہ اور عزیزوں کی جدائی پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں بھی آنسو آ جاتے تھے اور جب اس قسم کے ایک موقعہ پر بعض صحابہ نے آپ کی صبر کی تعلیم کو دیکھتے ہوئے حیرت کا اظہار کیا تو آپ نے فرمایا کہ کیا تم میرے دل کو خدا کی رحمت سے خالی سمجھتے ہو کہ کسی عزیز کی جدائی پر میری آنکھوں میں آنسو بھی نہیں آسکتے۔میں نے صرف بے صبری دکھانے اور خدا کی تقدیر پر معترض ہونے اور نوحہ کرنے سے منع کیا ہے اور اپنے صاحبزادے حضرت ابراھیم کی وفات پر آپ نے یہ رقت بھرے الفاظ فرمائے کہ : انا بفراقك يا ابراهيم لمحزونون • د یعنی اے ابراھیم ہمارے دل تیری جدائی کے صدمہ سے غمگین ہیں۔“ پس اسلام فطرت کے چشموں کو ہرگز بند نہیں کرتا مگر بے صبری اور جزع فزع کے ابال کو ضرور روکتا ہے اور یہی اس کے وسطی مذہب ہونے کا ثبوت ہے۔باقی بہنوں بھائیوں کے سوالوں کا جواب انشاء اللہ پھر کسی وقت دوں گا۔اس وقت علالت کی وجہ سے کوفت محسوس کرنے لگا ہوں۔وما توفیقی الا بالله العظيم ( مطبوعه الفضل ۲ / مارچ ۱۹۵۰ء)