مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 801 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 801

۸۰۱ مضامین بشیر خلاصہ یہ کہ وہ نوجوان جو کسی کام میں ناکامی دیکھ کر گھبراتا ہے اور مایوس ہونے لگتا ہے اسے چاہیئے کہ کم از کم مندرجہ ذیل باتوں کو ضرور یا درکھے۔(۱) خدا ہما را آتا ہے نہ کہ نعوذ باللہ خادم۔پس ضروری نہیں کہ وہ ہماری باتوں کو مانے بلکہ وہ دوستوں کی طرح بعض اوقات اپنے بندوں کی بات مانتا ہے اور بعض اوقات اپنی منوا کر ان کے ایمان کا امتحان کرتا ہے۔(۲) بسا اوقات خدا کے مختلف بندوں کی دعائیں آپس میں ٹکراتی ہیں اور اس صورت میں یہ ناممکن ہوتا ہے کہ خدا سب کی دعائیں قبول کرے۔پس وہ جسے زیادہ حقدار دیکھتا ہے اس کی دعا قبول کر لیتا ہے اور دوسروں کے صبر کو آزماتا ہے۔لہذا جو شخص اپنی دعاؤں میں زیادہ مقبولیت حاصل کرنا چاہتا ہے اسے چاہیئے کہ اپنے آپ کو زیادہ حقدار بنائے۔(۳) بعض اوقات دعا کرنے والا اپنی نادانی میں ایک ایسی چیز کی خواہش کرتا ہے جو خدا کے علم میں اس کے لئے (دین میں یا دنیا میں۔حال میں یا مستقبل میں ) نقصان دہ ہوتی ہے تو اس صورت میں خدا جو اپنے بندوں کے لئے ماں باپ سے بھی زیادہ شفیق ہے ان کی دعا کور دکر کے اس ذریعہ سے اس کے لئے ایک رحمت کا نشان قائم کرتا ہے۔(۴) بعض اوقات بندہ دنیوی تدبیروں اور سامانوں کو نظر انداز کرتے ہوئے محض دعا کے ذریعہ کامیاب ہونا چاہتا ہے یاد نیوی سامانوں کو اختیار تو کرتا ہے مگر اس حد تک اختیار نہیں کرتا جس حد تک کہ اختیار کرنا ضروری ہے تو اس صورت میں خدا اسے نا کام کر کے اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ دنیا کے اسباب بھی ہمارے ہی پیدا کئے ہوئے ہیں۔پس ” پہلے اونٹنی کا گھٹنا باندھوا اور پھر تو کل کرو۔“ ان کے علاوہ اور بھی کئی باتیں ہیں مثلاً دعا میں جلد بازی کرنا یا سنت الہی کے خلاف دعا کرنا وغیرہ وغیرہ۔مگر میں اس مختصر نوٹ میں صرف انہی چار باتوں پر اکتفا کرتا ہوں۔البتہ جو دوست چاہیں وہ دوسرے لٹریچر میں مفصل مطالعہ کر سکتے ہیں۔مُردوں پر فاتحہ خوانی اور قل کی رسم وغیرہ یہی خاتون دریافت کرتی ہیں کہ مُردوں پر فاتحہ خوانی کرنا یا قل وغیرہ کی رسم بجالانا اور اسی طرح دوسری معروف رسمیں جو آجکل مسلمانوں میں عموماً رائج ہیں ان کی شرعی پوزیشن کیا ہے؟ سواس کے متعلق جاننا چاہیئے کہ جو بات اس بارہ میں قرآن وحدیث اور سنت سے ثابت ہے وہ صرف اس قدر ہے کہ جب کوئی مسلمان مرنے لگے تو اس کے پاس سورہ یسین پڑھی جائے تا کہ ایک تو اس کی موت کی