مضامین بشیر (جلد 2) — Page 790
مضامین بشیر 29۔بعض متفرق سوالوں کا جواب جہاد بالسیف کے مسئلہ میں جماعت احمدیہ کا مسلک بعض بھائیوں اور بہنوں نے مجھے کچھ سوالات لکھ کر بھیجے ہیں اور خواہش ظاہر کی ہے کہ میں الفضل کے ذریعہ ان سوالوں کا جواب دوں تا کہ دوسرے دوست بھی فائدہ اٹھا سکیں۔مجھے افسوس ہے کہ آجکل میری طبیعت اچھی نہیں اور بلڈ پریشر کی زیادتی اور نبض کی تیزی اور دل کی دھڑکن وغیرہ کی وجہ سے کئی دن سے بستر میں ہوں اور ڈاکٹر نے زیادہ حرکت کرنے اور زیادہ محنت اٹھانے سے منع کیا ہے مگر دوسری طرف مجھے دوستوں کی خواہش کا بھی احترام ہے اور پھر جب تک اور جہاں تک ہمت ہے اپنی زندگی کو بریکا رکر کے رکھ دینے پر بھی طبیعت راضی نہیں ہوتی۔اس لئے نہایت اختصار کے ساتھ بہنوں اور بھائیوں کے بعض سوالوں کا جواب نمبر وار لکھانے کی کوشش کروں گا۔اس نمبر میں جہاد بالسیف کے سوال کو لیتا ہوں اگر اس مختصر جواب سے تسلی نہ ہو تو انشاء اللہ آئندہ کسی وقت مفصل جواب دینے کی کوشش کروں گا۔وما توفیقی الا بالله العظيم ایک دوست نے لکھا ہے کہ غیر از جماعت اصحاب کی طرف سے اعتراض ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جہاد بالسیف کو منع کر کے نہ صرف قرآن شریف کا ایک اہم حکم منسوخ قرار دیدیا ہے۔بلکہ مسلمانوں میں بزدلی اور پست ہمتی کے جذبات بھی پیدا کر دیئے ہیں وغیرہ وغیرہ۔اس اعتراض کے جواب میں یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ بالکل غلط اور جھوٹ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جہاد بالسیف کا حکم منسوخ کر دیا ہے۔قرآنی شریعت دائمی شریعت ہے اور اس کا کوئی حکم منسوخ نہیں ہوسکتا اور نہ ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ منصب ہے کہ وہ کسی قرآنی حکم کو منسوخ قرار دیں کیونکہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم اور آپ کی لائی ہوئی شریعت کے تابع ہیں اور ایک خادم اور تابع کا یہ مقام نہیں ہوتا کہ وہ اپنے مخدوم اور متبوع کا کوئی حکم منسوخ کرے۔پس یہ اعتراض محض جھوٹا اور بے بنیاد ہے جو لوگوں کو ہمارے خلاف اکسانے کیلئے ہمارے مخالفین نے مشہور کر رکھا ہے۔ہماری جماعت نے تو خدا کے فضل سے ان قرآنی آیتوں کو بھی قائم اور غیر منسوخ ثابت کیا ہے جنہیں بہت سے دوسرے مسلمان منسوخ قرار دیتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے