مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 782 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 782

مضامین بشیر ۷۸۲ خیر خواہان پاکستان سے درمندانہ اپیل خدا کے لئے وقت کی نزاکت کو پہچانو ! افسوس صد افسوس کہ قائد اعظم مرحوم کی وفات کے بعد اتنی جلد بعد ہی پاکستان میں ایک ایسا عنصر پیدا ہو رہا ہے جو اپنی تباہ کن پالیسی سے قائد اعظم کے زندگی بھر کے کام کو ملیا میٹ کرنے کے درپے ہے۔اور ایک دوسرا طبقہ اپنی سادہ لوحی میں اس فتنے کو ہوا دے رہا ہے۔قائد اعظم نے اپنی ساری زندگی اس کوشش میں وقف کر رکھی تھی کہ تمام مسلمان کہلانے والے لوگ اپنے بعض مذہبی اختلافات کے باوجود سیاسی میدان میں ایک نقطہ پر جمع ہو جائیں۔چنانچہ ان کی یہ کوشش خدا کے فضل سے کامیاب ہوئی اور مسلمانوں نے پاکستان کے وجود میں قائد اعظم کی انتھک مساعی کا پھل پالیا لیکن افسوس ہے کہ قائد اعظم کی آنکھیں بند ہوتے ہی ملک کے اس طبقہ نے جو اپنی گونا گوں اغراض کے ماتحت مسلمانوں کے سیاسی اتحاد میں اپنے مقاصد کی تباہی کے آثار دیکھ رہا ہے قائد اعظم کی اس پالیسی کے خلاف ملک میں افتراق و انشقاق کا بیج بونا شروع کر دیا ہے چنانچہ : - (۱) کہا جاتا ہے کہ احمد یہ جماعت (نعوذ باللہ من ذالک ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کی منکر ہے اور اس لئے وہ اس بات کی حقدار نہیں کہ مسلمانوں کے سیاسی اتحاد میں شریک کی جائے اور نہ ہی وہ پاکستان میں مسلمانوں کا حصہ بن کر رہنے کے قابل ہے۔یہ اعتراض کتنا غلط، کتنا بے بنیاد اور کتنا خلاف واقعہ ہے !۔خدا جانتا ہے کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ( فداہ نفسی ) کو سچے دل سے اور کامل یقین کے ساتھ خاتم النبیین مانتے ہیں اور آپ کی نبوت کے دامن کو قیامت تک وسیع جانتے اور قرآنی شریعت کو خدا کی آخری اور دائمی شریعت یقین کرتے ہیں جس کا کوئی فقرہ اور کوئی لفظ اور کوئی حرف کبھی منسوخ نہیں ہو سکتا۔ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح خاتم النبیین یقین کرتے ہیں جس طرح کہ حضرت شیخ احمد صاحب سرہندی ، مجد دالف ثانی اور حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب محدث دہلوی مجد دصدی دواز دھم اور جناب مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی بانی مدرسه دیو بند حضور سرور کائنات علیہ السلام کو خاتم النبین یقین کرتے تھے۔اور ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کو اپنے لئے سب نخروں سے بڑھ کر فخر سمجھتے ہیں اور خدا کی لعنت ہے اس شخص پر جو جھوٹا دعویٰ