مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 762 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 762

مضامین بشیر دوسرا گر نماز میں ذوق کی کیفیت پیدا کرنے کے لئے ہمارے آقا آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم ان پیارے الفاظ میں بیان فرماتے ہیں کہ : أن تعبد الله كانك تراه فان لم تكن تراه فانه يراك۔B یعنی نماز میں صحیح قلبی کیفیت پیدا کرنے اور اس کے اندر زندگی کی روح پھونکنے کے لئے ضروری ہے کہ اے نماز پڑھنے والے تو جب نماز کے لئے کھڑا ہو تو تیرا دل اس یقین سے معمور ہو کہ تو اپنے سامنے خدا کو دیکھ رہا ہے اور اگر تجھے شروع میں یہ کیفیت حاصل نہ ہو تو کم از کم یہ تو ہو کہ تو یہ یقین رکھے کہ خدا تجھے دیکھ رہا ہے۔“ یہ حدیث ہمیں یہ زریں اصول بتاتی ہے کہ نماز میں زندگی کی روح اور شوق کی کیفیت پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ جب انسان نما ز پڑھنے لگے تو توجہ دے کر اس یقین کے ساتھ کھڑا ہو کہ میں اس وقت اپنے خالق و مالک کے سامنے کھڑا ہونے لگا ہوں اور جب وہ اپنی توجہ کو اس طرف لگائے گا تو اول تو اس کا دل اس شعور اور اس یقین سے بھر جائے گا اور اس کے باطن کی آنکھیں اس ایمان سے روشن ہو جائیں گی کہ اس وقت میرے سامنے میرا خدا کھڑا ہے اور میں اسے گویا دیکھ رہا ہوں اور کم از کم وہ اس یقین سے تو خالی نہیں رہے گا کہ میرا خدا مجھے دیکھ رہا ہے۔اور یہ دونوں کیفیتیں نماز پڑھنے والے کے اندروہ زندگی کی روح پیدا کر دیں گی جو کچی نماز کی جان ہیں۔علم توجہ کی طرف ہی دیکھو کہ انسان ذراسی مشق سے نہ صرف بے جان چیزوں بلکہ جاندار چیزوں پر بھی تسلط جما لیتا ہے اور انہیں گویا اپنا غلام بنا لیتا ہے تو کیا وہ توجہ کے زور سے خود اپنے دل میں وہ کیفیت پیدا نہیں کر سکتا جو نماز کو ایک زندہ حقیقت بنانے کیلئے ضروری ہے؟ بہر حال نماز میں ذوق وشوق پیدا کرنے کیلئے اسلام دوسرا گر یہ بتاتا ہے کہ نماز پڑھنے والا اس یقین کے ساتھ کھڑا ہو کہ میں اپنے آقا اور مالک کے سامنے کھڑا ہونے لگا ہوں اور یہ کہ میں اسے دیکھ رہا ہوں اور وہ مجھے دیکھ رہا ہے۔تیسرا گر حدیث ان الفاظ میں بیان کرتی ہے: ا الدعاء مخ العبادة 1 یعنی دعا نماز کیلئے وہی حیثیت رکھتی ہے جو کہ ہڈی کے اندر کا گوداہڈی کیلئے رکھتا ہے۔“ پس نماز میں توجہ قائم کرنے اور نماز کو ایک زندہ حقیقت بنانے کیلئے یہ گر بھی یقیناً ایک نہایت ہی لطیف اور آزمودہ گر ہے کہ انسان اپنی مضطر بانہ دعاؤں اور التجاؤں سے اپنی نماز میں زندگی کی حرکت پیدا کرے۔ظاہر ہے کہ ہر انسان کو دین و دنیا کے میدان میں بیسیوں قسم کی اہم ضرورتیں پیش آتی رہتی ہیں۔اور ان میں سے بعض ایسی ہوتی ہیں جو اس کے اندر غیر معمولی بے چینی اور اضطراب کی